اگر ثبوت ہیں تو طالبان فراہم کریں: خواجہ آصف

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یاد رہے کہ کالعدم تحریکِ طالبان نے یکم مارچ سے ایک ماہ کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاکہ حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جاسکے

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی تحویل میں کوئی بھی خاتون اور بچہ نہیں ہے۔

وزیر دفاع کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی مذاکراتی کمیٹی نے اس سلسلے میں کوئی ثبوت فراہم کیا تو حکومت اس معاملے کی تحقیقات کرے گی۔

یاد رہے کہ کالعدم تحریکِ طالبان نے یکم مارچ سے ایک ماہ کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاکہ حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جاسکے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سکیورٹی ذرائع نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی تحویل میں کوئی عورت یا بچہ نہیں ہے۔

حکومت نے بھی چند روز بعد جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

اس جنگ بندی کے بعد بارہ مارچ کو تحریکِ طالبان کی جانب سے سکیورٹی اداروں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’جنگ بندی کے اعلان کے بعد پاکستانی سکیورٹی ادارے مختلف علاقوں میں مسلسل کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ باجوڑ اور مہمند ایجنسی میں گولہ باری اورسرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔ کراچی، پشاور، صوابی، چارسدہ کے پچیس متنازعہ دیہات اور ڈی آئی خان کی تحصیل کلاچی کے علاوہ متعدد مقامات پر سرچ آپریشن اور چھاپوں میں متعدد بےگناہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘

اسی بارے میں