پاکستان کی ’قومی زبانوں‘ پر بحث

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ماہرین کے نزدیک بچے اپنی زبان میں آسانی اور امادگی سے سیکھتے ہیں

مملکت خدادا پاکستان میں اس کی تخلیق کے بعد سے ہی یہ بحث اہم رہی ہے کہ کس زبان کو قومی زبان کا درجہ دیا جائے اور کس کو نہیں۔ اس بحث میں حالیہ دنوں میں شدّت اُس وقت آئی جب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات، نشریات و قومی ورثہ نے ماروی میمن کی سربراہی میں گزشتہ دنوں زبانوں کے معاملے میں لسانی و تعلیمی ماہرین اور محققین کا ایک اہم اجللاس بلایا تاکہ پاکستان میں اردو اور انگلش کے علاوہ دیگر پانچ زبانوں کی قسمت کا فیصلہ کیا جائے۔

اگر چہ اس اجلاس میں شرکت کی دعوت ذیادہ تر یونیورسٹیوں سے منسلک افراد کو دی گئی، تاہم اپنی نوعیت میں یہ ایک اہم اجلاس تھا۔ قومی اسمبلی کی پریس ریلیز کے مطابق بہت اہم بحث کی گئی اور آخر میں قرارداد بھی منظور کی گئی۔اس بحث میں ’لہجے‘، ’زبان‘ اور قومی زبان کے بارے ابہام پر بھی بحث کی گئی۔

’لہجے‘ اور ’زبان‘ کی تعریف سے منسلک ابہام ہی ہمارے قومی، تعلیمی اور لسانی ابہام کی طرف اشارہ دیتا ہے۔اور اس ابہام کو اب تک کوئی دانشور یا محقق حل نہیں کر سکا۔

پاکستان میں مرکزی دھارے سے منسلک دانشوروں اور تعلیمی ماہرین کی اکثریت ابھی تک پاکستان میں بولی جانے والی اقلیتی زبانوں کو زبان ماننے پر تیار نہیں۔ ان کے نزدیک پاکستان کی صوبائی زبانوں کے علاوہ دیگر ساری زبانیں محض ’ہجے‘ ہیں لہذا ان کی ترویج کی بھی ضرورت نہیں۔

ان اقلیتی زبانوں میں زیادہ تر کا چونکہ کوئی رسم الخط ابھی تک تیار نہیں ہوا یا پھر ان زبانوں میں کوئی قابِل ذکر تحریری مواد (corpus ) موجود نہیں اس لیے ہمارے یہ قابل احترام ماہرین ان کو زبان ماننے پر تیار نہیں۔

دوسری وجہ ان زبانوں کی صوتی ساخت ہے۔ ان میں ایسی آوازیں موجود ہیں جن کی ادائیگی ہمارے مرکزی دھارے کے دانشور یا ماہرین کے بس کی بات نہیں اس لیے وہ یا تو ان زبانوں پر ہنستے ہیں یا پھر ان کو سرے سے زبان ہی نہیں مانتے۔ایسے ماہرین سے جب واسطہ پڑتا ہے تو انسان کو ایسا لگتا ہے کہ شائد اقلیتی زبانوں کے بولنے والے کسی دوسری دنیا کے باسی ہوں۔

یہ ابہام بی بی سی اردو کی حالیہ رپورٹ ’پاکستان کی قومی زبانیں‘ میں ’ماہرین‘ کی آراء سے بھی ظاہر ہے۔ اس رپورٹ میں رپورٹر نے اپنی ماہرانہ رائے دی کہ پاکستان میں بولی جانے والی ساری زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔ اس کی وجہ مذکورہ ماہرین نے یہ بتائی کہ یا تو یہ زبانیں محض لہجے ہیں یا پھر ’قومی درجے‘ کے قابل نہیں۔

اس سے ان کا مطلب یہ ہے کہ زبانیں رابطے کی زبان نہیں ہیں۔ یہ استدلال سمجھ نہیں آتا۔ اس کو اگر درست مان لیا جائے تو اردو کی موجودہ حثیت پر بھی سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے ہر صوبے میں اب بھی ایسے کئی دیہات موجود ہیں جہاں کے باشندے اردو کو نہ تو بول سکتے ہیں اور نہ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ یا پھر پاکستان کے سابق اکثریتی صوبے مشرقی پاکستان میں لوگ اس کو نہ تو سمجھ سکتے تھے اور نہ ہی بول پاتے تھے۔ پھر بھی اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا۔

تحریک اردو پاکستان کا فیس بک صفحہ نظر سے گذرا جس میں ایک پروفیسر صاحب نے ماروی میمن کے اجلاس میں موجود شرکاء کو مبحوط الحواس تک قرار دیا۔ اردو کے یہ ’قدردان‘ دوسری زبانوں کے ذکر سے اتنا خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ اپنے ہی حواس کھو دیتے ہیں۔

پتہ نہیں کیوں ابھی تک ہمارے ماہرین اور مرکزی دھارے کے دانشور اب تک بنگلہ سینڈروم کو لیے پھرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان دیگر زبانوں کو اہمیت دینے کی صورت میں لوگ پاکستان سے دور ہوتے جائیں گے اور ان میں علیحدگی پسند رجحانات جنم لیں گے۔

دنیا میں شائد ہی کوئی مثال ایسی ہو جہاں مراعات یا جائز حقوق دینے سے لوگوں نے بغاوت کی ہو۔ البتہ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں لوگوں نے اپنے حقوق کے سلب ہونے پر بغاوت کی ہے۔

سابقہ مشرقی پاکستان کی مثال ہمارے سامنے ہے اور اسی طرح بلوچستان میں حالیہ شورش بھی۔ ہماری سمجھ کے مطابق لوگوں کو جائز حقوق دینے سے ہی علیحدگی پسند رجحانات کو روکا جاسکتا ہے اور ایک تکثیری معاشرے کی تشکیل ممکن ہو جاتی ہے۔

ان ’دیگر‘ زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دینے کی سادہ منطق یہ ہے کہ ان زبانوں کے بولنے والے پاکستانی ہیں اور وہ ہر لحاذ سے اپنی ثقافت اور زبان کی ترویج و حفاظت کا حق رکھتے ہیں۔ یہ حق انہیں دستور پاکستان آرٹیکل 28 کی صورت میں فراہم کرتا ہے۔

پاکستان میں زبان پر بحث ہمشہ ’شناخت‘ کے گرد گھومتی ہے۔ زبان کو صرف شناخت کی علامت بنایاگیا ہے اور اس بحث میں زبان کی تعلیمی پہلو کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے نزدیک بچے اپنی زبان میں آسانی سے سیکھتے ہیں اگر ان زبانوں میں ابتدائی تعلیم بچوں کو موثر انداز میں دی جائے۔ اسی لیے ماہرین اب ابتدائی تعلیم کو بچے کی مادری زبان میں ہی دینے پر زور دیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان اقلیتی زبانوں سے تعلق رکھنے والے بچے کئی طرح سے گھاٹے میں رہتے ہیں۔

مثلاً ایک توروالی بچہ جو کہ گھر میں اور اپنے اردگرد میں توروالی بولتا ہے اور اس کی ذہنی بلوغت اس زبان میں ہی ہو رہی ہے۔ مگر سکول میں وہ ایک انجان دنیا سے بر سر پیکار ہوتا ہے۔ اس کی کتابیں پشتو، اردو اور انگلش میں ہوتی ہیں اور استاد بھی بسا اوقات اس کی زبان پر ہنستا ہے۔

یوں یہ بچہ تعلیم کے نام پر ایک اذیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ایک طرف وہ اپنی ثقاتی ورثے سے دور چلا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف اس کی تعلیم لنگڑی ہوجاتی ہے۔ نتیجہ سکول سے بھاگ جانے یا پھر ذہنی بلوغت میں کندی ہو جاتا ہے۔

ماروی میمن نے افشا کیا کہ وزیراعظم پاکستان کی زبانوں پر ایک کمیشن کے خواہاں ہیں۔ ایسا ایک کمیشن جنرل ایوب نے 1959 میں قائم کی تھی جس کا نام شریف کمیشن تھا۔ اس وقت کا شریف کمیشن بھی اردو کی فوقیت کے ساتھ آگے آیا تھا اور پاکستان میں لسانی مسائل پر کوئی قابل ستائش حل پیش نہیں کرسکا تھا۔

کمیشن کی بجائے ایک ایسے وفاقی ادارے کی ضرورت ہے جو لسانی پالیسی سازی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ان زبانوں پر تحقیق کا بیڑا بھی اٹھائے۔

اسی بارے میں