طالبان کا مذاکرات کے لیے ’فری پیس زون‘ کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption طالبان کے ساتھ ابھی تک باقاعدہ بات چیت شروع نہیں ہو پائی ہے

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ’فری پیس زون‘ بنانے کا مطالبہ کیا ہے جہاں وہ بغیر کسی خطرے کے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے آ جا سکیں۔

یہ بات حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے طالبان کی طرف سے نامزد کردہ کمیٹی کے رکن سمیع الحق نے اکوڑہ خٹک میں بی بی سی اردو سروس کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔

گزشتہ جمعے کو طالبان کمیٹی کے دوارکان وزیرستان میں کسی نامعلوم مقام پر طالبان کے سرکردہ ارکان سے ملاقات کے بعد لوٹے تھے جس کے بعد انھوں نے سمیع الحق سے ملاقات کی تھی۔

سمیع الحق نے کہا کہ ابھی تو بہت سی جگہوں پر پکڑ دھکڑ ہے، فوج، ایف سی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ناکے ہیں اور طالبان آزادی سے نقل و حرکت نہیں کر سکتے۔

سمیع الحق نے کہا باقاعدہ مذاکرات شروع ہونے کے بعد بہت سے اجلاس ہوں گے جس کے لیے ایک ’ایک فری زون‘ ہونا چاہیے۔

سمیع الحق نے کہا کہ فی الوقت تو طالبان کے کئی سرکردر رکن زیرِ زمین ہیں اور وہ گرفتاریوں کے ڈر سے منظر عام پر نہیں آ سکتے۔

کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ کے بارے میں مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ ان کے بارے میں کچھ پتا نہیں کہ ’ وہ کہاں بیٹھا ہوا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ طالبان کے امور ان کی شوریٰ چلا رہی ہے جو پندرہ سولہ ارکان پر مشتمل ہے۔

حکومت سے مذاکرات کے بارے میں انھوں نے کہا کہ شوریٰ کے تین چار ارکان مذاکرات کریں گے اور مشورے کے لیے شوریٰ کا اجلاس بھی بلایا جا سکتا ہے۔

مذاکرات سے قبل طالبان نے اپنے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا اور ان کا کہنا ہے کہ ان قیدیوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

طالبان نے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے اپنی کمیٹی کو بطور ثبوت کچھ غیر عسکری قیدیوں کی فہرست دے دی ہے، تحقیق حکومتی کمیٹی کا کام ہے، اگر پیش رفت ہوئی تو دیگر قیدیوں کے نام بھی پیش کر دیں گے۔

سمیع الحق نے کہا کہ ان میں ایک ایسے شخص کی بیوی بھی شامل ہے جو روز گار کی غرض سے مشرق وسطیٰ میں ہے۔

دوسری طرف حکومت کا کہنا ہے کہ کوئی خواتین اور بچے زیرِ حراست نہیں ہیں۔

اسی بارے میں