’غیر عسکری‘ قیدیوں کی فہرست کمیٹی کے حوالے کر دی: طالبان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نہ جانے خواجہ صاحب کن قوتوں کے اشارے پر امن مذاکرات مشن کو داؤ پر لگانا چاہتے ہیں: طالبان ترجمان

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ انہوں نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے والی طالبان کی کمیٹی کو ’غیر عسکری قیدیوں‘ کی فہرست فراہم کر دی ہے۔

تحریک طالبان کے ترجمان نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے اس بیان پر کہ سکیورٹی فورسز کی تحویل میں کوئی بھی خاتون اور بچہ نہیں ہے، کہا کہ ’خواجہ آصف کو خفیہ حراستی مراکز کی اصل تعداد اور ان کے مقام سے بھی آگاہ نہیں ہوں گے تو ان میں موجود افراد کا ان کو کیا علم ہو سکتا ہے۔‘

تحریک طالبان کے ترجمان نے کہا کہ فاٹا، خیبر پختونخوا اور بلوچستان سمیت ملک کے ہر حصے میں سکیورٹی فورسز کے خفیہ حراستی مراکز ایک حقیقت ہیں جس سے اب آنکھیں چرانا ممکن نہیں ہے۔

طالبان کے ترجمان نے کہا ’نہ جانے خواجہ صاحب کن قوتوں کے اشارے پر امن مذاکرات مشن کو داؤ پر لگانا چاہتے ہیں؟‘

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی تحویل میں کوئی بھی خاتون اور بچہ نہیں ہے۔

وزیر دفاع کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی مذاکراتی کمیٹی نے اس سلسلے میں کوئی ثبوت فراہم کیا تو حکومت اس معاملے کی تحقیقات کرے گی۔

یاد رہے کہ کالعدم تحریکِ طالبان نے یکم مارچ سے ایک ماہ کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاکہ حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جاسکے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سکیورٹی ذرائع نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی تحویل میں کوئی عورت یا بچہ نہیں ہے۔

حکومت نے بھی چند روز بعد جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

اس جنگ بندی کے بعد بارہ مارچ کو تحریکِ طالبان کی جانب سے سکیورٹی اداروں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’جنگ بندی کے اعلان کے بعد پاکستانی سکیورٹی ادارے مختلف علاقوں میں مسلسل کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ باجوڑ اور مہمند ایجنسی میں گولہ باری اورسرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔ کراچی، پشاور، صوابی، چارسدہ کے پچیس متنازعہ دیہات اور ڈی آئی خان کی تحصیل کلاچی کے علاوہ متعدد مقامات پر سرچ آپریشن اور چھاپوں میں متعدد بےگناہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘

اسی بارے میں