’نیکٹا‘ کے تحت انٹیلیجنس ڈائریکٹریٹ کے قیام کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption نواز شریف نے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کرنے کا عزم دہرایا

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے انسدادِ دہشت گردی کے قومی ادارے نیکٹا کے ماتحت انٹیلیجنس ڈائریکٹریٹ اور ریپڈ رسپانس فورس کے قیام کا حکم دیا ہے۔

یہ فیصلے منگل کو وزیراعظم کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اعلیٰ سطح کے ایک اجلاس میں کیے گئے جس میں ملکی سلامتی کی صورتحال اور طالبان سے مذاکرات سے متعلق پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اس اجلاس میں پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی اور چاروں صوبائی وزرائے اعلٰی نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران وزیرِ داخلہ نے شرکا کو سکیورٹی کی صورتحال پر بریفنگ دی۔

وزیراعظم نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے چاروں صوبوں کو مزید وسائل کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ہر صوبے کو ایک ایک بم ڈسپوزل گاڑی بھی دی جائے گی۔

اس سلسلے میں’نیکٹا‘ کے ماتحت انٹیلیجنس ڈائریکٹریٹ قائم کرنے کی منظوری بھی دی گئی جبکہ ریپڈ رسپانس فورس بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم نواز شریف نے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کرنے کا عزم دہرایا۔ انھوں نے مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کو مذاکرات کی مخالفت کرنے والے گروہوں سے خود نمٹنا چاہیے۔

گزشتہ مہینے مہمند ایجنسی میں طالبان کی جانب سے ایف سی کے 23 اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل متاثر ہوا تھا۔

اس واقعہ کے بعد پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں مشتبہ شدت پسندوں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور ان کارروائیوں میں غیر ملکی شدت پسندوں سمیت درجنوں دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے۔

خیال رہے گزشتہ روز ہی بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے سربراہ سمیع الحق نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور حکومت کے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ’فری پیس زون‘ بنانے کا مطالبہ کیا ہے جہاں طالبان بغیر کسی خطرے کے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے آ جا سکیں۔

طالبان اور نئی حکومتی کمیٹی کی پہلی براہِ راست ملاقات کے لیے وقت اور جگہ کا تعین ابھی تک نہیں ہوا تاہم طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے کہا ہے کہ ایف آر بنوں اور میران شاہ وہ ممکنہ مقامات ہیں جہاں مذاکرات کیے جا سکتے ہیں۔

دوسری جانب طالبان اور حکومت کے درمیان جاری امن مذاکرات پر بات کرنے کے لیے وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ فضل الرحمان سے ملاقات کی۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس سوال کے جواب میں کہ جو طالبان قیدیوں کی فہرست میں کس کس کا نام ہے پرویز رشید نے کہا ’یہ سارے معاملات کمیٹی کے پاس ہیں اور وہ بہت جلد اپنی پیش رفت سے آگاہ کریں گئے اس لیے میڈیا انتظار کرے۔‘

پرویز رشید کا مزید کہنا تھا کہ فضل الرحمان نے تمام قومی امور میں اپنی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اسی بارے میں