تھر :متاثرین کے لیے امدادی رقم کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈپٹی کمشنر میر پور خاص نے کہا کہ متاثرین میں گندم کی 87500 بوریاں تقسیم کی جا چکی ہیں

وزیرِ اعظم میاں نواز شریف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تھر میں قحط سے متاثرہ خاندانوں میں امدادی رقوم تقسیم کی جائیں گی جبکہ سندھ حکومت نے کہا ہے کہ حالات ایسے نہیں کہ بین القوامی امداد کی ضرورت پڑے۔

وزیراعظم ہاوس سے پیر کی شام جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 78 ہزار خاندانوں میں کیش رقم تقسیم کی جائے گی۔

وزیراعظم نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ انکم سپور ٹ کی مد میں امداد حاصل کرنے والوں کو اگلے آٹھ ماہ تک پہلے کے برعکس تین گنا زیادہ امداد ملے گی۔

بی بی سی سے گفتگو میں ریلیف کمشنر تاج حیدر نے بین الاقوامی امداد کے حوالے سے کہا کہ’اقوام متحدہ کیا کرے گی ،ہمیں امداد کی کوئی ضرورت نہیں ۔ بین القوامی اداروں کو چاہیے کہ وہ تکنیکی معاونت فراہم کریں یہاں آکر اپنے پراجیکٹ کا آغاز کریں۔‘

پیر کے روز ہی ڈپٹی کمشنر میر پور خاص نے ایک اعلامیے میں کہا کہ متاثرین میں گندم کی 87500 بوریاں تقسیم کی جا چکی ہیں۔

لیکن دوسری جانب سندھ کے تین اضلاع کے آفت زدہ 46 دیہات ک بیشتر مکین اب بھی امداد کے منتظر ہیں۔

ریلیف کمشنر تاج حیدر نے بتایا کہ دوہزار گیارہ میں غریب خاندانوں کی لسٹ تیار ہوئی تھیں جس کے مطابق فی متاثرہ خاندان 50 کلو گندم دی جا رہی ہے۔

مگر بی بی سی کے ذریعے حکومت تک اپنی شکایات پہنچانے والے تھر کے علاقے چھاجرو کے ایک گاوں کی مکین فاطمہ بتاتی ہیں’ہمیں گندم نہیں چاہیے ہمیں امداد نہ دیں یہ وڈیرے لے لیتے ہیں کٹوتی کر کے دیتے ہیں۔ حکومت ہمارے علاقے کے راستے ٹھیک کرے، ہسپتال میں لیڈی ڈاکر نہیں ہمارے جانور مر رہے ہیں۔‘

تاج حیدر نے کہا کہ یہ میڈیا کی جانب سےبنایا جانے والا ڈیزاسٹر تھا جسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔

اسی بارے میں