’کراچی میں امن کے قیام کے لیے نظام میں گُڑ ڈالنا ہوگا‘

Image caption ڈی جی رینجرز کے مطابق ان کے پاس صرف تلاشی اور گرفتاری کے اختیارات ہیں

سندھ میں سرحدی فورس رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل رضوان اختر کا کہنا ہے کہ کراچی میں امن کی بحالی کےلیے نظام کو درست کرنا ہوگا، ورنہ فوج سمیت کوئی بھی فورس آجائے صورتحال بہتر نہیں ہوگی۔

بدھ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’یہ نظام اس وقت صحیح ہوگا جب اس میں مطلوبہ گُڑ ڈالا جائے گا۔‘

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میجر جنرل رضوان اختر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں کراچی بدامنی کیس کے فیصلے کے بعد سندھ حکومت نے وزرات داخلہ کے کہنے پر رینجرز کو کچھ اختیار دیے تھے۔

’کاغذ کے اس ٹکڑے کی وجہ سے لوگ یہ سمجھتے رہے ہیں کہ ہمارے پاس ہر طرح کے اختیارات آگئے ہیں اور ہم بہت کچھ کرسکتے ہیں، عدلیہ نے بھی یہ سوال کیا کہ آپ کے پاس تمام اختیارات ہیں پھر آپ یہ کیوں نہیں کرسکتے۔‘

ڈی جی رینجرز کے مطابق ان کے پاس صرف تلاشی اور گرفتاری کے اختیارات ہیں۔

بقول ان کے آپ کو اطلاع ملی، سرچ کیا اور بندہ گرفتار کرلیا، لیکن آپ اس کو رکھ نہیں سکتے کیونکہ اس کو پولیس کےحوالے کرنا ہے۔

کراچی میں جمعرات کو سپریم کورٹ کراچی بدامنی کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کی سماعت کر رہی ہے، اس سے ایک روز پہلے ڈی جی رینجرز کی یہ پریس کانفرنس سامنے آئی ہے۔

میجر جنرل رضوان اختر کا کہنا تھا کہ عدالتی نظام تین چیزوں پر طاقتور ہوتا ہے، پہلا گرفتاری، مقدمے کی موثر پیروی اور جائز سزا۔ ’میں اس لیے یہ کہہ رہا ہوں کیونکہ اگر ملزم نے قتل کا جرم کیا ہے تو اس کو سزا غیر قانونی ہتھیار رکھنے کی ملتی ہے، اس کی وجہ ہم نہیں بلکہ یہ پورا نظام ہے۔‘

کراچی میں وفاقی حکومت نے گذشتہ سال ستمبر میں آپریشن کا فیصلہ کیا تھا جس کی قیادت رینجرز کو دی گئی تھی۔

پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی رینجرز نے واضح کیا کہ چشم دید گواہ کے بغیر مقدمے کی تفتیش میں کتنی مشکلات پیش آتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب ایک ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے اور رینجرز پہنچتی ہے تو وہاں ایک لاش پڑی ہوتی ہے، گولیاں کے کچھ خول موجود ہوتے ہیں اور کچھ سہمے ہوئے لوگ پھر رہے ہوتے ہیں۔ ’کوئی بھی ذی عقل شخص یہ مانتا ہوگا کہ وہاں رہنے والے یا وہاں موجود لوگ یہ نہ بتائیں کہ کس نے فائر کیا اور اس کا حلیہ کیسا تھا، پھر چاہے وہ ڈر کہ مارے نہ بتائیں اس صورتحال میں آپ ایک اندھی گلی میں کھڑے ہیں اب آپ اس مقدمے کو آگے کیسے لیکر چلیں۔‘

Image caption ڈی جی رینجرز نے بلا واسطہ طور پر اپنے بے اختیار ہونے، پراسیکیوشن اور عدالتی نظام میں تبدیلی کی خواہشات کا اظہار کیا

ڈی جی رینجرز نے بتایا کہ وہ فرانزک مدد حاصل کرتے ہیں کہ جو گولیوں کے خول ملے ہیں کیا یہ ہتھیار پہلے بھی استعمال ہوا ہے، پھر آپ کو انٹلی جنس یا ذرائع سے رپورٹ ملتی ہے کہ حملہ آور اس گلی سے یہ اس مکان سے آئے تھے، ان کا تعلق فلاں کالعدم تنظیم یا گروپ سے تھا۔‘

’پھر آپ اس بندے کو کسی جگہ، راستے یا مکان سے پولیس کے ساتھ مل کر اٹھاتے ہیں اور گرفتاری کے اس وقت ضروری نہیں ہے کہ اس کے پاس آلہ قتل موجود ہو یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ اس کے پاس کوئی اور ہتھیار موجود ہو۔‘

دوران تفتیش ملزمان پر تشدد کا ڈی جی رینجرز نے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ ہاتھی کو پکڑ کر لے جائے تو بعد میں وہ ہاتھی بھی کہتا ہے کہ میں ہرن ہوں، لیکن اس کے بغیر کام ہو نہیں سکتا۔

’ایک مجرم ہے، جو قتل، ڈکیتیاں اور دیگر جرم کرتا رہا ہو، کیا وہ آسانی سے بتادے گا کہ وہ یہ جرم کرتا رہا ہے؟ ملزم جو دوران تفتیش بتاتا ہے اس کو انٹروگیشن رپورٹ یا جوائنٹ انٹروگیشن کہہ دیں لیکن آج بھی عدالت میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے پھر مقدمہ آگے چل نہیں سکتا۔‘

ڈی جی رینجرز نے بلا واسطہ طور پر اپنے بے اختیار ہونے، پراسیکیوشن اور عدالتی نظام میں تبدیلی کی خواہشات کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ فوج لانے کی بات کرتے ہیں لیکن کوئی بھی فورس لے آئیں جب تک نظام صحیح نہیں ہوگا، بہتری مشکل ہے جب کوئی گُڑ ڈالے گا تبھی یہ نظام صحیح چلے گا۔

اسی بارے میں