’اسامہ کو آئی ایس آئی کی مدد سے متعلق رپورٹ غور طلب نہیں‘

پاکستان نے کہا ہے کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو پاکستان میں قیام کے دوران آئی ایس آئی کی مدد حاصل ہونے کے متعلق نیویارک ٹائمز کی رپورٹ توجہ طلب نہیں ہے۔

واشنگٹن میں پاکستان کے سفارت خانے کی طرف سے بدھ کو جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سینیئر امریکی اہلکاروں نے کئی موقعوں پر یہ بات کہی ہے کہ انھوں نے اساما بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کے حوالے سے حکومتِ پاکستان کے کسی بھی ادارے کے کردار کے حوالے سے کوئی شواہد نہیں دیکھے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بدھ کو اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی فوج کے اعلیٰ افسران کو القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں علم تھا اور آئی ایس آئی میں ایک ’سپر سیکریٹ سیل‘ قائم تھا جو اسامہ بن لادن کو ہینڈل کرتا تھا۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹر کیرول گال نے اپنی ایک انتہائی طویل رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ آئی ایس آئی کو اسامہ بن لادن کی موجودگی کا علم تھا۔

نیویارک ٹائمز کی یہ رپورٹ مکمل طور پر ذرائع کے حوالے سے تھی۔ اس رپورٹ میں صرف ایک مرتبہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ضیا الدین بٹ کے حوالے سے کہا گیا کہ ان کے خیال میں جنرل پرویز مشرف نے اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں چھپنے کے انتظامات کیے ہوں گے۔

البتہ جنرل ضیا الدین بٹ نے واضح انداز میں کہا تھا کہ ان کے پاس اسامہ بن لادن کو چھپانے کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹر کیرول گال نے نومبر سنہ 2001 کے بعد بارہ برس تک افغانستان میں رپورٹنگ کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد کے اس گھر میں ہلاک کیا گیا تھا

رپورٹ میں کہاگیا کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ایک پاکستانی اہل کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رپورٹر کو بتایا کہ اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ شجاع پاشا کو اسامہ بن لادن کی پاکستانی سرزمین پر موجودگی کا علم تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ امریکی اہل کاروں نے نیویارک ٹائمز کے صحافیوں کے پوچھنے پر بتایا کہ ان کے پاس ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہو کہ پاکستان کے اعلیٰ فوجی یا سویلین اہل کاروں کو اسامہ بن لادن کی موجودگی کا علم تھا۔

رپورٹ میں کہاگیا کہ اسامہ بن لادن کے گھر سے ملنے والی ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریروں، خطوط اور کمپیوٹر کی فائلوں سے یہ ظاہر نہیں ہوتا ہے کہ اسامہ بن لادن کا پاکستان کے کسی اہل کار سے تعلق تھا۔ البتہ اسامہ بن لادن کے گھر سے ملنے والی دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کا لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ محمد سعید اور ملا محمد عمر سے روابط تھے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیاگیا کہ حافظ سعید اور ملا محمد عمر آئی ایس آئی کے وفادار ملڑی کمانڈر ہیں اور آئی ایس آئی کو اسامہ بن لادن کے خط و کتابت کا یقیناً علم ہو گا۔

رپورٹ میں کہاگیا تھا کہ اسامہ بن لادن صرف گھر تک محدود نہیں تھے بلکہ وہ کبھی کبھار شدت پسندوں سے ملاقات کے لیے جاتے تھے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیاگیا تھا کہ اسامہ بن لادن نے 2009 میں شدت پسند رہنما قاری سیف اللہ اختر سے ملاقات کے لیے رات کی تاریکی میں وزیرستان کا دورہ کیا تھا۔

قاری سیف اللہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے ملا محمد عمر کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر افغانستان سے فرار کروایا تھا اور 1998 میں اسامہ بن لادن کو امریکی میزائل حملے سے بچنے میں مدد کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق قاری سیف اللہ آئی ایس آئی کا’قیمتی اثاثہ‘ مانا جاتا ہے۔

قاری سیف اللہ پر الزام لگتا رہا ہے کہ انھوں نے بینظیر بھٹو کے قتل کی منصوبہ بندی کی تھی۔ قاری سیف اللہ کو کئی بار پاکستان کے سرکاری اداروں نےگرفتار کیا لیکن ہر بار انھیں چھوڑ دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق جب اسامہ بن لادن نے وزیرستان میں قاری سیف اللہ کےگھر کا دورہ کیا تو وہاں ان سے راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے ہیڈکوارٹر پر حملے کی اجازت مانگی تھی جسے اسامہ بن لادن نے نامنظور کیا تھا۔

رپورٹ کےمطابق وزیرستان میں ہونے والی اس میٹنگ میں اسامہ بن لادن نے نہ صرف جی ایچ کیو پر حملے کو نامنظور کیا تھا بلکہ جہادی گروہوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ پاکستان کے خلاف جنگ نہ کریں اور اپنی پوری توجہ امریکہ کے خلاف جنگ پر مرکوز کریں۔

اسامہ بن لادن نے شدت پسندوں کو بتایا کہ اگر وہ پاکستان کے اندر جنگ کریں گے تو وہ اپنے ٹھکانے کوتباہ کر دیں گے۔ رپورٹ کے مطابق اسامہ بن لادن نے میٹنگ کو بتایا: ’اگر آپ جہاز میں سوراخ کریں گے تو اس سے جہاز ڈوب جائے گا۔‘

اسامہ بن لادن نے سیف اللہ اختر کو ہدایت کی کہ وہ امریکی افواج کے خلاف جنگ کے لیے نئے لوگوں کو بھرتی کرنے پر توجہ دیں۔ قاری سیف اللہ اختر پاکستان میں کئی مدرسے چلاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسامہ بن لادن نے کہا کہ آنے والے برسوں میں افغانستان، پاکستان، صومالیہ اور بحیرہ ہند القاعدہ کا میدان جنگ ہوگا اور القاعدہ کو اس کے لیے اور جنگجوؤں کی ضرورت ہے۔ اسامہ بن لادن نےجنگجوؤں کو سمندر میں لڑنے کی تربیت کی بھی پیشکش کی۔ اسامہ بن لادن نے کہا کہ امریکہ جلد ہی افغانستان سے چلا جائے گا اور اگلی جنگ سمندروں میں لڑی جائے گی۔

رپورٹر نے دعویٰ کیا کہ اسے ایک ذریعے نے بتایا کہ آئی ایس آئی میں اسامہ بن لادن کو ہینڈل کرنے کے ایک سپیشل ڈیسک قائم تھا۔ یہ ڈیسک ایک ایسا افسر چلاتا تھا جو مکمل طور پر خود مختار تھا اور وہ اپنے فیصلے خود کرتا تھا اور اس کے فرائض میں صرف اور صرف ایک شخص کو ہینڈل کرنا تھا جس کا نام اسامہ بن لادن تھا۔

رپورٹ کے مطابق آئی ایس آئی کا یہ مکمل طور پر خود مختار شخص اپنے اعلیٰ افسران کو بھی رپورٹ نہیں کرتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق دو سابق امریکی اہلکاروں نے رپورٹر کی معلومات کی تائید کی اور بتایا کہ اس سیل کے بارے ان کی معلومات رپورٹر کی معلومات سے مطابقت رکھتی ہیں۔

رپورٹر کا کہنا تھا کہ افغانوں اور طالبان فائٹروں کو اس سیل کے بارے میں معلوم تھا لیکن آئی ایس آئی کا ہر شخص اس ’سپر سیکریٹ‘ سیل کی تردید کرتا ہے۔ رپورٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے اندرونی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستانی فوج کی اعلی کمانڈ کو اس بارے میں علم تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ انٹرنیٹ لنکس

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں