لاپتہ کیس:’فوجی اہلکاروں کےخلاف ایف آئی آر درج کریں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دس دسمبر2013 کو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ مالا کنڈ حراستی سینٹر سے لاپتہ ہونے والے 35 قیدی فوجی حکام کی حراست میں ہیں اس لیے لاپتہ افراد کو سات دن میں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے

حکومتِ پاکستان نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کروائی ہے کہ مالاکنڈ کے حراستی مرکز سے لاپتہ ہونے والے افراد کے معاملے میں ملوث فوجی اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔

عدالت نے اس ایف آئی آر کی نقل جمعرات کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

لاپتہ افراد کے لیے ایک اور کمیشن تشکیل

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کو 35 لاپتہ افراد کے معاملے کی سماعت کی۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے سپریم کورٹ کو بتایا ان افراد کی گمشدگی میں ملوث فوجی اہلکاروں کے خلاف حکومت کی جانب سے ایف آئی آر درج کی جائے گی۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ ایف آئی آر جمعرات کو عدالت میں پیش کی جائے۔

سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے حکم سنانے کے بعد مزید کہا کہ ’کوئی بھی آئین سے بالاتر نہیں ہے۔‘

بدھ کو سماعت کے دوران اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ وفاق کی نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ وہ یہ عدالت کو لکھ کر دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دس دسمبر2013 کو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ مالا کنڈ حراستی سینٹر سے لاپتہ ہونے والے 35 قیدی فوجی حکام کی حراست میں ہیں اس لیے لاپتہ افراد کو سات دن میں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے

عدالت کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم خود عدالت میں پیش ہو کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی پاسداری ان کی ذمہ داری نہیں۔

اس سے پہلے منگل کو اسی مقدمے میں سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے حکومت کو 24 گھنٹے کی مہلت دی تھی۔

تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس جواد ایس خواجہ نے حکم جاری کیا تھا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا عدالت کو بتائیں کہ اب تک 10 دسمبر 2013 اور 11 مارچ 2014 کے عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے کی کیا وجہ ہے۔

عدالت نے وزیرِاعظم اور وزیراعلی ٰپر توہین عدالت کا مقدمہ چلانے کی بھی تنبیہ کی تھی۔

دس دسمبر2013 کو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ مالا کنڈ حراستی مرکز سے لاپتہ ہونے والے 35 قیدی فوجی حکام کی حراست میں ہیں اس لیے لاپتہ افراد کو سات دن میں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور ملوث فوجی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

ان میں سے بارہ افراد کو عدالت میں پیش کر دیاگیا لیکن یاسین شاہ سمیت 23 افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور اس میں ملوث فوجی اہلکاروں کے خلاف اب تک کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کی گئی۔

وزرات دفاع نے اعلیٰ عدالت کے دسمبر کے فیصلے خلاف درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں اس عدالتی حکم کو چیلنج کیا گیا ہے۔

حکومتی درخواست میں کیاگیا ہے کہ فوجی اداروں کے خلاف اس طرح کا حکم ان کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور اس طرح کے فیصلے فوج کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں۔

مقدمے کی سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں