’ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا اب بھی غیر منصفانہ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ڈاکٹر شکیل آفریدی پر قتل کے دفعات کے تحت ایک اور مقدمہ بھی ہے

امریکہ نے اسامہ بن لادن کی تلاش میں مبینہ طور پر مدد فراہم کرنے والے پاکستان میں قید ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا میں دس سال کمی کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی سزا اب بھی غیر منصفانہ ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے منگل کو صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ پاکستان کو کہتا رہا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو دی جانے والی سزا’انسدادِ دہشت گردی کے خلاف ہمارے مشترکہ مفادات بالخصوص اسامہ بن لادن کو انصاف کے کٹہرے میں لانے‘ کے حوالے سے غلط پیغام دے رہی ہے۔

کمشنر پشاور نے سنیچر کو ڈاکٹر آفریدی کی اپیل پر انہیں سنائی گئی قید کی سزا کی مدت 33 سال سے کم کر کے 23 سال کرنے کا حکم دیا تھا۔

جین ساکی نے کہا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو 23 سال قید کی سزا دینا اتنی ہی بے انصافی ہے جتنی کی 33 سال۔

واضح رہے کہ امریکی کانگریس نے حال ہی میں امریکی اداروں کو سنہ دو ہزار چودہ میں مختص ہونے والے بجٹ کے لیے قانون پاس کیا تھا جس کے ایک شق میں تجویز کیا گیا ہے کہ پاکستان کو دی جانے والی تین کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی امداد کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کو قید میں رکھنے کی وجہ سے روک لیا جائے۔

پاکستان نے امریکہ کی طرف سے پاکستان کو دی جانے والی امداد کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی سے مشروط کرنے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے کی روح کے منافی ہے۔

خیال رہے کہ مئی سنہ 2012 میں خیبر ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ کی جانب سے ملزم ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ایف سی آر کے قانون کے تحت 33 سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی گئی تھی۔ تاہم بعد میں ملزم کی طرف سے فاٹا ٹرائیبیونل میں اس سزا کے خلاف اپیل دائر کی گئی۔

ڈاکٹر آفریدی پر پاکستان میں مقیم بن لادن کی تلاش میں مدد کے الزام میں مقدمہ نہیں بنا بلکہ یہ سزا انہیں ایک شدت پسند تنظیم کی مدد کرنے کے الزام میں سنائی گئی تھی۔

سنیچر کو عدالت نے شکیل افریدی پر عائد جرمانے میں بھی ایک لاکھ روپے کی کمی کے احکامات جاری کیے تھے۔

ملزم کے وکیل سمیع اللہ آفریدی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ کمشنر ایف سی آر کی عدالت نے ان کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے 33 سال کی سزا میں دس سال کمی کردی اور یہ سزا اب 23 سال رہ گئی جبکہ ان پر جرمانے کی سزا میں بھی ایک لاکھ روپے کی کمی کردی گئی۔

انھوں نے کہا تھا کہ ملزم کی جانب سے کمشنر ایف سی آر کی عدالت کی طرف سے دی گئی سزا کو فاٹا ٹربیونل میں چیلنج کیا جائے گا۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے خلاف گذشتہ سال اس مقدمے کے علاوہ قتل کی دفعات کے تحت ایک اور مقدمہ بھی قائم کیا گیا ہے جس کی سماعت جاری ہے۔

اسی بارے میں