’خیبر پختونخوا کی کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے گذشتہ روز ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ خیبر پختونخوا کابینہ میں رد و بدل کی جا رہی ہے

صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے کابینہ میں پہلی مرتبہ ردوبدل کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پانچ وزارتوں کے لیے ارکان کا انتخاب بھی کیا جانا ہے، تاہم تاحال اس سلسلے میں اب تک حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے ۔

پی ٹی آئی کی حکومت کو آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی جماعت قومی وطن پارٹی کو حکومتی اتحاد سے خارج کر دینے، ایک وزیر اسرار اللہ گنڈہ پور کی ہلاکت اور ایک وزیر یوسف ایوب کی نااہلی کے بعد پانچ محکموں کے لیے اراکین کا انتخاب کرنا ہے۔ عوامی وطن پارٹی کو اتحاد میں شامل کرنے کے لیے تین وزارتیں دی گئی تھیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے گذشتہ روز ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ خیبر پختونخوا کابینہ میں رد و بدل کیا جا رہا ہے۔

یہ رد و بدل کیا ہوگی اور اس کی ضرورت کیوں کر پیش آئی، یہ سوال میں نے حکومت میں شامل چند عہدیداروں سے پوچھا تو انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایک تو وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا رہا تھا اور اس کے علاوہ جماعت کے اندر بھی کچھ اراکین وزارتوں کا مطالبہ کر رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق اس وقت اسرار اللہ گنڈپ پور کے کے نو منتخب بھائی اکرام اللہ گنڈہ پور اور یوسف ایوب کے بھائی اکبر ایوب وزارتوں کے لیے مضبوط امیدوار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایسی اطلاع ہے کہ عوامی جمہوری اتحاد کے سربراہ شہرام خان ترکئی کو سینیئر وزیر بنائے جانے کا امکان ہے

اس کے علاوہ ایسی اطلاع ہے کہ عوامی جمہوری اتحاد کے سربراہ شہرام خان ترکئی کو سینیئر وزیر بنائے جانے کا امکان ہے اور انھیں اہم محکمہ بھی تفویض کیا جا سکتا ہے۔ شہرام ترکئی اس وقت صوبائی وزیرِ زراعت ہیں۔

قومی وطن پارٹی سے واپس لیے گئے محکموں کے لیے تین اراکین کا انتخاب کیا جانا ہے جس پر ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ اراکین کا انتخاب ان کے حلقوں اور علاقوں کی پسماندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے یہ عندیہ بھی دیا ہے وہ علاقے جہاں ماضی میں ترقیاتی منصوبے شروع نہیں کیے گئے ان علاقوں سے اراکین کو وزارتیں دی جا سکتی ہیں۔

ادھر چند روز قبل مردان سے تعلق رکھنے والے کچھ اراکین کے حوالے سے ایسی خبریں ذرائع ابلاغ میں آئی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ تینوں اراکین نے اپنی قیادت سے ترقیاتی منصوبے نہ دینے کی آواز بلند کی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ جماعت کی اعلیٰ قیادت نے اس رویے پر ان اراکین کے خلاف کارروائی کی فیصلہ کیا تھا لیکن بعد میں ان اراکین نے اس بیان سے لاتعلقی ظاہر کر دی تھی۔

ادھر ایسی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ سوکت یوسفزئی سے وزارت صحت کا قلمدان واپس لیا جا رہا تھا لیکن اس دوران وزیر اعلیٰ نے جماعت کی اعلی قیادت کے سامنے شوکت یوسفزیی کا دفاع کیا اور اب ایسی اطلاع ہے کہ ان سے یہ قلمدان واپس نہیں لیا جا رہا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اب تک اس بارے میں کوئی حتمی فیصلے نہیں ہوئے ہیں، صلاح مشورے کیے جا رہے ہیں اور آئندہ چند روز میں اس بارے میں باقاعدہ اعلان کیا جاسکتا ہے۔

اسی بارے میں