’کسی دوسرے ملک فوج بھیجنے کا ارادہ نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے حکومتِ پاکستان کو وزیرِاعظم نواز شریف کی ذاتی ضمانت پر ڈیڑھ ارب ڈالر کا قرض فراہم کیا تاہم وزیرِ خزانہ نے اسے ایک تحفہ قرار دیا

پاکستان کے وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک نے پاکستان سے فوج بھیجنے کی درخواست نہیں کی ہے اور نہ ہی پاکستان کسی ملک میں اپنے فوجی بھیجے گا۔

پنجاب کے شہر میانوالی میں پاکستانی فضائیہ کے ایک اڈّے کا نام تبدیل کرنے کے سلسلے میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان کے کوئی بھی جارحانہ عزائم نہیں ہیں مگر وہ اپنے دفاع اور خود مختاری پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔

پاکستانی فضائیہ کے میانوالی کے اڈّے کا نام ایم ایم عالم بیس رکھا جا رہا ہے۔ ایم ایم عالم 1965 کی پاک بھارت جنگ میں پاکستانی فضائیہ میں پائلٹ تھے اور انھیں اس جنگ کا ایک ہیرو مانا جاتا ہے۔

حالیہ دنوں میں بحرین اور سعودی عرب کے سرکاری وفود نے پاکستان کے دورے کیے ہیں اور مقامی ذرائع ابلاغ میں ان خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ یہ وفود پاکستان سے فوجی خدمات ’خریدنے‘ کے لیے آئے ہیں۔

یاد رہے کہ عرب ملک بحرین کے شاہ شیخ حماد بن عیسٰی الخلیفہ اسی ہفتے پاکستان کے تین روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد آئے۔ بحرین کے شاہ کا یہ چالیس برسوں میں پاکستان کا پہلا دورہ تھا جسے سرکاری سطح پر تو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے اعتبار سے اہم قرار دیا جا رہا ہے لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے جڑا ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر اعجاز حسین کا کہنا ہے کہ اس دورے کو مشرقِ وسطیٰ کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ ’اہل تشیع اکثریتی بحرین میں شیعہ سنی فساد ابھر رہا ہے۔ بحرین سعودی عرب کا اتحادی ہے اور ایران کو ایک خطرہ سمجھتا ہے۔ پاکستان کام آسکتا ہے اس میں بحرین کا۔‘

سعودی عرب میں مقیم سینیئر پاکستانی صحافی راشد حسین کہتے ہیں کہ خطے میں کشمکش کو کم کرنے کے لیے خبریں ہیں کہ پاکستان کم از کم تیس ہزار فوجی خلیج تعاون کونسل کی حفاظتی شیلڈ فورس کے لیے مہیا کرے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ذرائع ابلاغ میں بتایا گیا تھا کہ سعودی عرب نے حکومتِ پاکستان کو وزیرِاعظم نواز شریف کی ذاتی ضمانت پر ڈیڑھ ارب ڈالر کا قرض فراہم کیا تاکہ حکومتِ پاکستان اپنے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو بہتر کر سکے اور اپنے قرض کی ادائیگی کی ذمہ داریوں کو ادا کر سکے۔

تاہم وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ پاکستان کو حال ہی میں ملنے والے ڈیڑھ ارب ڈالر ’دوست ممالک‘ کی جانب سے پاکستان کے عوام کے لیے تحفہ ہے، قرض نہیں۔

اس قرض کی اطلاع پاکستانی حکام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو دی تھی جس کے نتیجے میں پاکستانی روپے کی قدر میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

اسی بارے میں