اسلام آباد کی کچی آبادیاں:’غیرقانونی تجاوزات یا سکیورٹی کے لیے خطرہ؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ان آبادیوں میں سے زیادہ تر مسیحی رہتے ہیں

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کا ترقیاتی ادارہ سی ڈی اے، شہر کی بارہ کچی آبادیوں کو سکیورٹی کی بنیاد پر ختم کرنے کے لیے ایک بڑی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے جبکہ کچی آباد کے رہائشیوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں آپریشن کے ذریعے بےگھر کرنے کے بجائے کہیں اور منتقل کیا جائے۔

سی ڈی اے نے ان بارہ کچی آبادیوں کے خاتمے کے لیے پولیس کی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے اور ادارے کا کہنا ہے کہ یہ آبادیاں نہ صرف غیر قانونی ہیں، بلکہ ان میں جرائم پیشہ افراد کی آمدو رفت عام ہے۔

ایسی ہی آبادیوں میں رہنے والے ایک ہزار سے زیادہ افراد نے جمعے کو اسلام آباد میں سی ڈی اے کے خلاف احتجاج کیا۔

مسیحی برادری کے ایک رہنما پادری یوسف مسیح بھٹی نے بتایا کہ ان آبادیوں میں سے زیادہ تر مسیحی رہتے ہیں، اور اگر یہ کارروائی ہوئی تو وہ کہاں جائیں گے؟

ان کا کہنا تھا کہ ’چودھری نثار صاحب نے حکم دیا ہے اور ہم پر بہت الزامات لگائے ہیں کہ صبح مزدوری کرتے ہیں رات کو ڈکیتیاں۔ میں نے سی ڈی اے کی اہلکار شائستہ سہیل سے ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ اگر ایسا ہے تو ہمیں ان مجرموں کی فہرست دیں۔ اگر ان آبادیوں میں کوئی بھی طالبان ہے، تو ہم جگہ چھوڑنے کو تیار ہیں۔‘

سی ڈی اے کی اہلکار شائستہ سہیل کا کہنا ہے کہ شہر کی دس ایسی آبادیوں کو ختم کر کے، رہائشیوں کو متبادل جگہ منتقل کر دیا گیا ہے اور جن بارہ آبادیوں پر کارروائی کی جار رہی ہے، یہ غیر قانونی ہیں اور گذشتہ کچھ ہی سالوں میں ان کے رہائشیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

بائیں بازو کی جماعت عوامی پارٹی کے رہنما اور کچی آبادی کے رہائشیوں کے حق میں مہم چلانے والے عاصم سجاد اختر کا کہنا ہے کہ یہ آبادیاں کئی دہائیاں پرانی ہیں: ’سی ڈی اے کا موقف ہے کہ 1985 سے پہلے بنی ہوئی آبادیوں کو قانونی حیثیت دے دی گئی ہے، مگر افغان بستی تو بہت پرانی ہے۔ اسے کیوں گرایا جا رہا ہے؟‘

شائستہ سہیل مانتی ہیں کہ ان آبادیوں کے پھیلاؤ کی وجہ سی ڈی اے کی کوتاہی ہے: ’میں ڈیڑھ سال سے کوشش کر رہی ہوں کہ باقاعدہ آپریشن ہو۔ یہاں 487 پلاٹ ہیں جو حکومت کی ملکیت ہیں۔‘

سی ڈی اے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ کارروائی کی وجہ اس ماہ اسلام آباد کے ایف ایٹ سیکٹر میں ہونے والے شدت پسند حملے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد کے پولیس کے سربراہ کی رپورٹ کے مطابق، حملہ آوروں کے شہر کے کچی آبادیوں میں رابطے تھے۔

عاصم سجاد اختر کہتے ہیں کہ اگر یہ کچی آبادیاں زمین پر قبضہ کر کے قائم کی گئی ہیں، تو صرف غریبوں کو کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ’اس آپریشن کی قانونی بنیاد ضرور ہے، لیکن اسلام آباد میں غیر ملکی ریسٹورنٹ، شاپنگ مال اور فوج کے صدر دفتر کو بنانے کے لیے زمین مارکیٹ ریٹ پر نہیں خریدی گئی۔ ان پر کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟‘

انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ آپریشن کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ ’یہ لوگ دوسرے شہروں سے آ کر یہاں مزدوری کرتے ہیں اور ان کے پاس اتنی آمدن نہیں ہوتی کہ وہ کرائے پر گھر لے سکیں۔ اگر سی ڈی اے سمجھتی ہے کہ ان کچے گھروں کو بلڈوز کر کے مسئلہ حل ہو جائے گا، تو وہ نہ تو مسئلے کو سمجھتے ہیں اور نہ ہی حل کرنا چاہتے ہیں۔‘

کچی آبادیاں گرانے کا آپریشن جو 24 مارچ کو بلڈوزر کے ذریعے، اسلام آباد کی افغان بستی میں شروع ہونا تھا، اسے فی الحال اپریل تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق، ان آبادیوں میں قریبا ڈیڑھ لاکھ مزدور اور دوسرے شہروں سے آنے والے لوگ رہتے ہیں اور اب جب کہ نہ تو سی ڈی اے ان کے مطالبات ماننے کو تیار ہے، اور نہ ہی رہائشی جانے کو تیار ہیں تو سوال یہ ہے کہ معاملہ پھر کہاں تک جائے گا؟