سندھ:کار میں آتشزدگی، قوم پرست رہنما ہلاک

Image caption مقصود قریشی 23 مارچ کو ہونے والے فریڈم مارچ کے سلسلے میں تنظیمی دورے پر تھے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع نوشہروفیروز میں ایک کار میں پراسرار طور پر آگ لگنے سے دو افراد جھلس کر ہلاک ہوگئے ہیں۔

قوم پرست جماعت جئے سندھ قومی محاذ کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے ان کے رہنما مقصود قریشی اور سلمان ودھو ہیں۔

مقصود قریشی جسقم کے مرحوم رہنما بشیر قریشی کے چھوٹے بھائی تھے۔

یہ واقعہ نوشہرروفیروز کے علاقے پکا چانگ بھریا روڈ پر جمعے کی صبح پیش آیا ہے جہاں ایک جلتی ہوئی گاڑی دیکھ کر لوگوں نے صحافیوں کو اطلاع دی، جنہوں نے پولیس کو آگاہ کیا۔

کار میں سوار دونوں افراد کی لاشیں بری طرح جل چکی تھیں جنہیں پولیس نے بھریا روڈ ہپستال پہنچایا۔

ابتدائی طور پر ڈی ایس پی شاہنواز میمن نے کہا کہ لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے تاہم یہ تصدیق ہوئی ہے کہ گاڑی مقصود قریشی کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ بعد میں ڈی آئی جی سکھر نعیم کھرل نے مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والے مقصود قریشی ہیں۔

جئے سندھ قومی محاذ کے وائس چیئرمین ڈاکٹر نیاز کالانی کا کہنا ہے کہ بشیر قریشی کے بھائی مقصود قریشی اور سلمان ودھو 23 مارچ کو فریڈم مارچ کے سلسلے میں تنظیمی دورے پر تھے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ کوئی حادثہ نہیں ہے اور ریاستی ادارے اس واقعے میں ملوث ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ایک منصوبہ بندی کے تحت ان کی جماعت پر یہ وار کیا گیا ہے۔

’جب سے ہم نے فریڈم مارچ کے سلسلے میں تنظیمی دورے شروع کیے تھے نامعلوم ٹیلیفون نمبر سے انہیں دھمکیاں مل رہی تھیں اور مارچ سے باز رہنے کا مشورہ دیا جارہا تھا، یہ واقعہ اسی کا نتیجہ ہے۔‘

نیاز کالانی کے مطابق ریاستی ادارے نہیں چاہتے کہ 23 مارچ کو سندھ کے لوگ اپنے جذبات کا اظہار کریں۔

یاد رہے کہ 23 مارچ کو جئے سندھ قومی محاذ نے کراچی میں فریڈم مارچ کا اعلان کیا ہے۔

اس سے پہلے سابق چیئرمین بشیر قریشی کی سربراہی میں بھی ایسا مارچ کیا گیا تھا جس کے چند ماہ بعد ان کی پراسرار حالت میں موت واقع ہوگئی تھی۔ جئےسندھ قومی محاذ نے ان کی موت کو بھی غیر فطری قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ اپریل 2011 میں سانگھڑ میں اسی طرح ایک کار میں آتشزدگی سے علیحدگی پسند تنظیم جئے سندھ متحدہ محاذ کے مرکزی رہنما سرائی قربان کھاوڑ، روپلو چولیانی اور نوراللہ ہلاک ہوگئے تھے۔

دریں اثنا سندھ اسمبلی میں مسلم لیگ فنکنشل، متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ ن کی جانب سے مقصود قریشی کے ایصال ثواب کے لیے دعا کی گئی۔

صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے واقعے کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے قوم پرست کارکنوں کو اپیل کی ہے کہ وہ طیش میں نہ آئیں اس واقعے کی بھی انکوائری جائےگی جس طرح حکومت بشیر قریشی کی موت کی تحقیقات کر چکی ہے۔

دریں اثناان رہنماؤں کی ہلاکت کی خبر پھیلنے پر سندھ کے اکثر چھوٹے بڑے شہروں میں کاروبارِ زندگی متاثر ہوا اور قوم پرستوں کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے بھریا شہر میں لاشوں سمیت قومی شاہراہ پر دھرنا دیا۔

مشتعل افراد نے تین ٹرالروں کو بھی نذر آتش کردیا ، جس کی وجہ سے قومی شاہراہ پر ٹریفک معطل رہی۔

اسی بارے میں