’فوج فیصلہ کرے کہ کس نے بات کرنی ہے اور کیا بات کرنی ہے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

حکومت کی جانب سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے تشکیل دی جانے والی پہلی کمیٹی کے رکن میجر عامر کا کہنا ہے کہ وہ کمیٹی اب تحلیل کر دی گئی ہے کیونکہ میڈیا پر مسلسل موجودگی کی وجہ سے اس کا آگے چلنا مشکل ہوگیا تھا۔

میجر عامر گزشتہ برس ستمبر سے طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل میں پیش پیش ہیں تاہم اکثر وہ میڈیا سے دور رہتے ہیں۔ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے حکیم اللہ محسود کے ساتھ خفیہ مذاکرات میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہے تھے مذاکراتی عمل میں انہیں وزیر اعظم نواز شریف کا کلیدی مشیر کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔

اسلام آباد میں بی بی سی اردو سے خصوصی بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ ’سابق کمیٹی کے قیام کے وقت وزیراعظم سے کہا تھا کہ انہیں دو باتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ ایک زبان بندی اور دوسرا کمیٹی اور اس کے دائرۂ اختیار میں تبدیلی‘۔

میجر عامر نے افسوس ظاہر کیا کہ میڈیا پر چھائے رہنے کی وجہ سے اس کمیٹی کا مزید کام کرنا مشکل ہوگیا تھا۔ان کا کہنا تھا وہ اس عمل کے پہلے دن سے مخالف تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ کمیٹی مشکل مسائل پر حکومت اور طالبان کے درمیان مشترکہ زمین تیار کرنے میں مدد دے سکتی تھی لیکن ہر بات میڈیا میں آنے کے بعد اس کا چلنا ممکن نہیں رہا۔ آگے چل کر انتہائی حساس معاملات پر بات ہونی تھی تو اب ہر بات تو میڈیا پر نہیں کی جاسکتی۔‘

میجر عامر کے بارے میں اب کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے نئی کمیٹی کے لیے بھی ایک فارمولا تجویز کیا ہے۔

اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’آپ اسے جو بھی کہیں لیکن میں نے وزیراعظم سے کہا ہے کہ اس معاملے میں اب اصل بات فوج کی ہے۔ وہ لڑ بھی رہی ہے اور متاثر بھی ہے۔ وہ مکمل طور پر آن بورڈ ہو۔ انہیں ڈرائیونگ سیٹ میں بٹھا دیں کہ وہ فیصلہ کریں کہ کس نے بات کرنی ہے اور کیا بات کرنی ہے۔ وہ متاثر بھی ہیں اور موثر بھی ہیں۔ یہ میں صرف بہتر نتائج کی خاطر کہہ رہا ہوں۔‘

میجر عامر نے کہا کہ انہوں نے نئی کمیٹی سے کہا ہے کہ انہوں نے میڈیا سے دور رہنے کا درست فیصلہ کیا ہے۔

تاہم وہ جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان کی سابق کمیٹی پر کڑی تنقید سے خوش نظر نہیں آئے۔

’انہیں کم از کم یہ نہیں کہنا چاہیے تھا کہ وہ کمیٹی پختون روایات سے واقف نہیں ہے۔ میں یوسفزئی قبیلے سے ہوں۔ یہ تو یوں کہیے کہ گالی دے رہیں۔ ہم تو نہ کرائے کے سپاہی ہیں اور نہ ہی اجرتی قاتل ہیں۔ میں تو اسے کارِ خیر کے طور پر کر رہا ہوں۔ میں نے تو وزیراعظم سے کہا تھا کہ نہ میں عہدہ لوں گا اور نہ میرا نام کہیں آئے۔ اگر ہماری مدد نہیں کر سکتے تھے تو یہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘

اس سوال پر کہ ماضی میں شدت پسندوں کے ساتھ معاہدوں سے اس مرتبہ مختلف کیا ہے، میجر محمد عامر نے کہا کہ ’ماضی کے افراد کے ساتھ معاہدوں کی بجائے اس مرتبہ حکومت کا معاہدہ ایک تنظیم سے ہوگا اور دوسرا یہ کہ اس مرتبہ جنگ بندی ہوئی ہے جو پہلی کبھی نہیں دیکھنے کو ملی۔ اس وجہ سے میں اس موجودہ سلسلے کو امتیازی سمجھتا ہوں۔‘

مذاکراتی عمل کے مخالفین کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ایک جانب احرار الہند ہے تو دوسری جانب انصار الہند ہے۔ خود حکمراں جماعت کی پارلیمانی کمیٹی مذاکرات کے خلاف تھی، کابینہ میں واحد چوہدری نثار حامی تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کل جماعتی کانفرنس میں مذاکرات کے فیصلے کے بعد تنقید نہیں ہونی چاہیے تھی اور سیاسی نمبر نہیں بنانے چاہیے تھے۔

میجر عامر نے کہا کہ حکومت نے طالبان کی عورتوں اور بچہ قیدیوں سے متعلق بات کو سنجیدگی سے لیا ہے اور اس کی تحقیق ہو رہی ہے کہ اگر ایسے کچھ لوگ ہیں تو انہیں تو ویسے ہی رہا کر دیا جانا چاہیے تھے۔

تاہم دیگر قیدیوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے بھی ڈاکٹر اجمل، حیدرگیلانی اور شہباز تاثیر کی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی بارے میں