لاپتہ افراد : وزیرِ دفاع کی طرف سے نائب صوبیدار کے خلاف مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مالکنڈ سے لاپتہ ہونے والے 12 لاپتہ افراد کو سپریم کورٹ میں پیش کر دیا گیا تھا تاہم 23 کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ میں 35 لاپتہ افراد کے مقدمے میں مالا کنڈ تھانے میں حراستی مرکز کے نائب صوبیدار امان اللہ کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کی نقل پیش کر دی گئی۔

جمعے کو سماعت کے موقع پر پیش کی گئی اس ایف آئی آر میں شکایت کنندہ کے طور پر وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا نام درج ہے۔

صوبہ خیبر پختونخو ایڈوکیٹ جنرل عبدالطیف نے عدالت میں ایف آئی آر پیش کی جو جمعرات کو آئین کی دفعہ 346 سی آر پی سی کے تحت درج ہوئی۔

اس موقعے پر عدالت نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون حرکت میں آگیا ہے۔

مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ تفتیش کے بعد ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی اور مرکزی حکومت یقینی بنائے کہ اس معاملے کی تحقیقات شفاف ہوں۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ جلد از جلد تفتیش مکمل کر کے چالان عدالت میں پیش کریں۔

انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ لاپتہ افراد کے معاملے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔‘

انہوں نے کہا ’جو لوگ ابھی تک لاپتہ ہیں انہیں تلاش کرنے کی کوشش کی جائے۔‘

اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے عدالت کو بتایا کہ میاں محمد اجمل پر مشتمل ایک رکنی کمیشن نے گزشتہ روز سے کام شروع کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ اس یک رکنی کمیشن کا قیام دس دسمبر 2011 کے عدالتی فیصلے کے بعد کیا گیا تھا جس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ مالا کنڈ حراستی سینٹر سے لاپتہ ہونے والے 35 قیدی فوجی حکام کی حراست میں ہیں اس لیے لاپتہ افراد کو سات دن میں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور ملوث فوجی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

ان میں سے بارہ افراد کو عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے مگر 23 افراد اب بھی لاپتہ ہیں ۔

جمعے کو سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو کمشین کی رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔

اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اگر حکومت محسوس کرئے تو آرمڈ فورسز اور پولیس کے اختیارات کا تحفظ کرنے والے تحفظ پاکستان آرڈیننس میں ترمیم بھی کی جا سکتی ہے۔

گزشتہ روز سماعت میں عدالت نے خبیر پختواخوا کے ایڈوکیٹ جنرل یوسف زئی کو ہدایت کی تھی کہ وہ صوبائی حکومت سے اس ایف آئی آر سے متعلق تفصیلات لے کر عدالت کو آگاہ کریں۔

عدالت نے سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

اسی بارے میں