قتل پر جرگہ، رکنِ اسمبلی کی گرفتاری کا حکم

Image caption جرگے پر ازخود نوٹس کی سماعت پاکستان سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں ہوئی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے صوبہ سندھ کے ضلع شکارپور میں دو بہنوں کے قتل کے معاملے کا تصفیہ کرنے کے لیے جرگہ منعقد کرنے کے الزام میں قومی اسمبلی کے رکن غوث بخش مہر سمیت 19 ملزمان کو گرفتار کرنے اور ایک ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

مہر قبیلے کی دو لڑکیوں کے پسند کی شادی کی غرض سے جاگیرانی قبیلے کے دو لڑکوں کے ساتھ جانے کے معاملے پر یہ جرگہ 16 مارچ کو منعقد ہوا تھا۔

پولیس کے مطابق جاگیرانی قبیلے کے معززین نے دونوں لڑکیوں کو ان کے فرار کے دوسرے دن مہر قبیلے کے حوالے کر دیا تھا اور ان دونوں کو ان کے چچا زاد بھائی ثنا اللہ نے گولیاں مار کر ہلاک کرنے کے بعد دفنا دیا تھا۔

تاہم جرگے میں ان کے قتل کا ذمہ دار جاگیرانی قبیلے کو قرار دیتے ہوئے ان پر 24 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔

جمعے کو کراچی میں از خود نوٹس کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے قائم مقام آئی جی اقبال محمود سے سوال کیا کہ لڑکیوں کے نام کیا تھے اور پولیس کو واقعے کا کیسے علم ہوا؟

اقبال محمود نے بتایا کہ لڑکیوں کے نام ریما اور شاناں مہر تھے اور ان کے والد ماسٹر عبداللہ نے ایف آئی آر درج کروائی تھی، جس میں بتایا تھا کہ ان کی بیٹیاں اپنے چچا کے گھر گئیں تھیں، جہاں سے واپس نہیں آئیں اور انہیں شبہ ہے کہ انہیں قتل کر کے دفنایا گیا ہے۔

چیف جسٹس کے اس سوال پر کہ اس قتل اور جرگے میں کون ملوث ہے، آئی جی اقبال محمود نے انہیں بتایا کہ مہر اور جاگیرانی قبیلے کے لوگ ہیں جن میں غوث بحش مہر سمیت 19 افراد شریک جرم ہیں۔

اس پر عدالت نے ڈی ایس پی سکھر قدوس کلوڑ کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم بنانے کی ہدایت کی اور حکم جاری کیا کہ ملزمان کو گرفتار کر کے ان کا چالان متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے اور سپریم کورٹ میں جرگے اور قتل کی تحقیقاتی رپورٹ ایک ہفتے میں پیش کی جائے۔

خیال رہے کہ جمعرات کو سپریم کورٹ کی جانب سے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیے جانے کے بعد شکارپور میں پولیس نے سابق وفاقی وزیر اور رکن قومی اسمبلی غوث بخش مہر، جاگیرانی قبیلے کے معزز شخص حاجی بخش جاگیرانی اور دیگر گیارہ افراد کے خلاف قتل کے معاملے پر غیر قانونی جرگہ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا۔

خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے سنہ 2005 میں جرگے منعقد کرنے کے خلاف فیصلے میں پابندی عائد کی تھی کہ قتل کے کسی معاملے پر جرگوں میں فیصلے نہیں کیے جائیں گے۔

آئی جی سندھ کی تعیناتی

ادھر سپریم کورٹ نے آئی جی سندھ کی تعیناتی کے لیے حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت دے دی ہے۔

جمعے کو کراچی بدامنی کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کے معاملے کی سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل اسلم بٹ نے عدالت کو بتایا کہ 1993 کی بین الصوبائی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے مطابق آئی جی کی تقرری صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے کی جائےگی۔

ان کے مطابق 20 فروری کو آئی جی سندھ کے ریٹائر ہونے کےبعد میر زبیر، مشتاق سکھیرا اور کیپٹن لیاقت کے نام سندھ حکومت کو بھیج دیے گئے ہیں اور وفاقی حکومت نے نام تجویز کر کے اپنی ذمے داری پوری کر دی ہے۔

اس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ فتاح ملک نے عدالت کو آگاہ کیا کہ صوبائی حکومت کو وفاق کا تجویز کردہ آئی جی قبول نہیں اور سندھ حکومت کو نام تجویز کرنے کے لیے مہلت دی جائے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئی جی اور چیف سیکریٹری کی تقرری عدالت کا کام نہیں ہے اور آئی جی کا منصب اہمیت کا حامی ہے اسے خالی نہیں رہنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ کراچی کے حالات دن بدن خراب ہو رہے ہیں اور حکومت کو اس کا اندازہ نہیں ہے۔

اس موقع پر جسٹس خلجی عارف حسین نے ریمارکس دیے کہ اگر دو سال تک وفاق اور سندھ میں اتفاق نہیں ہوا تو کیا آئی جی تعینات نہیں کیا جائے گا؟

عدالت نے حکم جاری کیا کہ ایک ہفتے کے اندر آئی جی کی تعیناتی کی جائے اور اس سلسلے میں جو مشاورت کرنی ہے کر لی جائے۔

اسی بارے میں