سمیع الحق کے بیان پر سوشل میڈیا میں’کائیں کائیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور جمعیت علمائے اسلام کے اپنے دھڑے کے سربراہ سمیع الحق کے بیان پر پاکستانی سوشل میڈیا میں شدید ردِ عمل سامنے آ رہا ہے۔

جہاں سوشل میڈیا پر سمیع الحق کے بیان کو ’دیوانگی‘ قرار دیا جا رہا ہے وہیں طالبان کے کئی رہنماؤں کے ساتھ ان کے تعلقات اور بات چیت میں ان کے کردار پر تنقید کی جا رہی ہے۔

طالبان کا لفظ اس وقت پاکستان میں سب سے اوپر ٹرینڈ کر رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ ہزاروں افراد اس پر بحث میں مصروف ہیں۔

یاد رہے کہ سمیع الحق نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ’جو نام نہاد دینی طبقے، سیکولر و لبرل لابیاں، دفاعی، سفارتی، سیاسی تجزیہ نگار، اینکرز و کالم نگار، اور مغرب کے اشاروں پر آپریشن اور جنگ کاطوفان برپا کیے ہوئے ہیں ان سب کا ایک بریگیڈ بنا کر اِسے طالبان سے مقابلہ کرنے کیلیے بھیجا جائے تاکہ اُن کا شوقِ جنگ وجدال پورا ہو۔‘

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے مصنف رضا رومی نے ٹویٹ کی کہ ’سمیع الحق کیوں لوگوں کو طالبان سے لڑانے کی بات کر رہے ہیں۔ کیا یہ چھ لاکھ فوجیوں کا کام نہیں ہے؟ یہ دیوانگی ہے۔ اور ہم آپ کے طلبا کی طرح خود کش حملے نہیں کرتے ہیں بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری ریاست کام کرے اور قانون کی عملداری ہو۔ بندوق کی نوک پر شریعت نہ ہو۔‘

روزنامہ ڈان کے میگزین ایڈیٹر ضرار کھوڑو نے لکھا کہ ’پہلے تو یہ سنتے تھے کہ ہمارے پاس ایک فوج ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم ہموار سڑکوں کا مطالبہ کریں گے تو ہمیں کہا جائے گا کہ خود ہی بنا لو۔‘

اسد جان نے کہا ہے کہ ’ہاں یہ سب اکٹھے ہو کر اکوڑہ خٹک بھی جا سکتے ہیں اور مشہور طالبانی مدرسہ بھی نشانا بنا سکتے ہیں۔‘

نذرانہ یوسفزئی نے لکھا کہ ’کیا (پاکستانی لبرلز) پہلے ہی طالبان کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں ہیں؟ شاید سمیع الحق تمام لبرلز کو ایک بار ہی ختم کروانا چاہتے ہیں۔‘

تاہم ایک اور ٹویپ مرزا مبشر احمد نے ٹویٹ کی کہ ’یہ تمام لبرل سوشل میڈیا پر کووں کی طرح کائیں کائیں کرتے ہیں اور عملی طور پر کچھ نہیں۔ ایسے کوے جو سوشل میڈیا پر ہی بیٹھے رہتے ہیں اور بس۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے حکومتی کمیٹی خراب موسم کی وجہ سے منگل کو وزیرستان روانہ نہیں ہو سکی ہے

سمیع الحق کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک پریس ریلیز کے مطابق مولانا سمیع الحق نے یہ بات ایبٹ آباد کے ایک مدرسے میں خطاب کرتے ہوئے کہی جس میں کہا گیا کہ ’قوم فکری انارکی وانتشار سے بچ جائے گی‘ اور ’غیور بھائی و بہادر فوج بھی اس خون خرابے کے عمل سے بچ جائیں گی۔‘

سمیع الحق کے ساتھ اس تقریب میں پریس ریلیز کے مطابق وفاقی وزیرِ مذہبی امور سردار محمد یوسف بھی شریک تھے۔

دوسری جانب بارش کی وجہ سے طالبان کے ساتھ مذاکرات ملتوی ہونے پر بھی پاکستانی سوشل میڈیا میں بحث جاری ہے۔

عمر چیمہ نے ٹویٹ کی کہ ’بارش کی وجہ سے مذاکرات اس بار نہ ہو سکے۔ پہلے ڈرون اس کی وجہ بنا تھا۔ فوج اب اللہ اور امریکہ کے ساتھ ایک ہی موقف پر لگتی ہے۔‘

اسی بارے میں