کم عمری کی شادی کے قانون میں ترمیم کا بل اسمبلی میں

Image caption یہ بل پارلیمان میں مسلم لیگ نواز کی رکن ماروی میمن نے چند دیگر رہنماؤں کے ساتھ پیش کیا ہے

پاکستان مسلم لیگ نواز نے کم عمری کی شادی کے خلاف موجود قانون میں جس کا نام ’چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ‘ ہے ترمیم یعنی تبدیلی کرنے کا بل پیش کیا ہے۔

یہ بل پاکستان مسلم لیگ نواز کی رکن قومی اسمبلی ماروی میمن نے چند دیگر راہنماؤں کے ہمراہ پارلیمان میں پیش کیا ہے۔

اس بل میں یہ سوال کیا گیا ہے کہ کیا یہ درست ہے کہ کم عمری میں بچیوں کا ماں بننا ان کی صحت کے لیے خطرناک ہے یا نھیں؟ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے تحفظ کے بارے میں اقوام متحدہ کے کنوینشن کا حوالہ دیا گیا ہے جو بلوغت کی عمر 18 سال بتاتا ہے۔

مسلم لیگ کی رکن قومی اسمبلی ماروی میمن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل قومی اسمبلی کی کمیٹی کو بھجوا دیا گیا ہے جہاں اس کی سفارشات پر بحث کی جائے گی۔

ماروی میمن نے کہا کہ ’اس بل کا مقصد صرف یہ ہے کہ پارلیمنٹ اور اس کی کمیٹی میں قرآن اور سنت اور پاکستان کے آئین کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے کہ کیایہ درست ہے کہ 15 سے 18 سال کی عمر میں ہماری لڑکیاں ماں بنتی ہیں وہ ان کے لیے خطرناک ہے یا نھیں؟‘

ماروی میمن کا کہنا ہے کہ اس بل پر پارلیمنٹ کی دیگر جماعتوں کا ردِ عمل بہت مثبت تھا اور وزیر برائے مذہبی امور نے کہا ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں اس پر فیصلہ کیا جائے گا۔

لیکن دوسری جانب پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل نے حال ہی میں اپنے اجلاس میں کم عمری کی شادی پر بھی بحث کی ہے اور کونسل کا موقف دو ٹوک ہے کہ اسلام میں بچے کا نکاح کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے۔

ماری میمن کہتی ہیں کہ ’اسلامی نظریاتی کونسل کا موقف اپنی جگہ اور کونسل کے چیئرمین مولانا شیرانی قابلِ احترام ہیں انھیں اپنے موقف کو پیش کرنے کا حق ہے لیکن ہم اپنے علماء کا موقف بھی کمیٹی کے سامنے پیش کریں گے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان واحد اسلامی ملک نہیں اور کمیٹی کے سامنے دلائل میں ہم ان اسلامی ممالک کا حوالہ بھی دیں گے۔

یاد رہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے حال ہی میں تجویز کیا گیا ہے کہ ان پاکستانی قوانین میں تبدیلی کی جائے جن کے مطابق کم عمری میں شادی پر پابندی ہے اور کسی مسلمان مرد کو دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینا لازم ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے جو پارلیمنٹ کو ایسے قوانین میں تبدیلی کا مشورہ دینے کا مجاز ہے جو ان کی نظر میں اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ تاہم پاکستانی پارلیمنٹ نے شاذ و نادر ہی اسلامی نظریاتی کونسل کی کسی تجویز پر قانون سازی کی ہے۔

اسی بارے میں