’ٹیکس نظام میں بہتری سے تعلیم عام ہو سکتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یونیسکو کی تازہ رپورٹ، ایڈیوکیش فار آل گلوبل مانٹرنگ رپورٹ کے مطابق، پاکستان اپنے بجٹ کے دس فیصد تعلیم کے شعبے پر خرچ کرتا ہے

ثقافت اور تعلیم سے متعلق اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان سمیت 67 ممالک میں اگر ٹیکس کے نظام کو زیادہ مؤثر بنایا جائے تو ان ممالک کی حکومتیں ہر بچے کو معیاری پرائمری اور سیکنڈری تعلیم فراہم کر سکیں گی۔

یونیسکو کی تازہ رپورٹ، ایڈیوکیش فار آل گلوبل مانٹرنگ رپورٹ کے مطابق، پاکستان اپنے بجٹ کے دس فیصد تعلیم کے شعبے پر خرچ کرتا ہے، جبکہ یونیسکو کی سفارش بیس فیصد ہے۔

یونیسکو کے شراکت دار ادارے ایکشن ایڈ پاکستان کے ترجمان زکریا نٹکانی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اس بات کا عالمی سطح پر وعدہ کیا ہے کہ پاکستان 2015 تک ملک کے تمام بچوں کو سکول میں داخل کرے گا اور شرحِ خواندگی کو 87 فیصد بڑھائے گا۔

تاہم 2014 کے تین ماہ گزر گئے ہیں اور ان تمام اہداف کے حصول کی منزل ابھی بہت دور ہے۔ مثال کے طور پر شرحِ خواندگی 47 فیصد ہے جبکہ سکول میں بچوں کے داخلے کی شرح 57 فیصد ہے۔ ’اگر ہم اب چیزوں کو درست کرنا شروع کریں گے، تب بھی بہت سال لگیں گے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ان 37 ممالک میں سے ہے جنہیں تعلیم کو ترجیح دینے اور ٹیکس کی آمدنی کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

یونیسکو کی تجویز ہے کہ اگر پاکستان اپنی مجموعی قومی پیداور یعنی جی ڈی پی میں سے چودہ فیصد تعلیم پر خرچ کرے تو پاکستان کے تمام بچوں کو تعلیم فراہم کی جا سکے گی۔ اس وقت پاکستان کے جی ڈی پی کا اڑھائی فیصد تعلیم کے شعبے کے لیے مختص ہے۔

ایکشن ایڈ کے زکریا نٹکانی کہتے ہیں کہ ’گذشتہ حکومت نے آئین میں آرٹیکل پچیس اے کو متعارف کروایا گیا ہے جس کے تحت ہر بچے کو تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے۔ ’یہ اب ریاست کی زمہ داری ہے لیکن تعلیم پر بہت کم خرچ کیا جا رہا ہے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں زرعی شعبے سےتعلق رکھنے والے اثرورسوخ رکھنے والے گروہوں کی وجہ سے انہیں کم ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ جی ڈی پی کا بائیس فیصد حصہ زرعی شعبے کا ہے جبکہ جی ڈی پی کو اس شعبے سے صرف ایک فیصد ٹیکس جاتا ہے۔

ویسے آج ہی قومی اسمبلی میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رکنِ اسمبلی اسد عمر کی جانب سے پیش کی گئی براہِ راست ٹیکس بڑھانے کی قرارداد منظور ہوئی ہے۔ قرارداد پر بحث کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کے اراکینِ اسمبلی نے مسئلہ اٹھایا کہ زرعی شعبے پر زیادہ ٹیکس لاگو ہونا چاہیے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن اور پارلیمنٹری سیکرٹری خزانہ رانا محمد افضل خان نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ٹیکس ادائیگیوں میں اضافے کے لیے حکومت نے کونسل قائم کی ہے، اور 77000 افراد کو ٹیکس نہ ادا کرنے پر نوٹس بھیجے گئے ہیں۔

Image caption اٹھارویں ترمیم کے تحت تعلیم اب صوبوں کے اختیار میں ہے

زکریا نٹکانی نے بتایا کہ تعلیم کے اخراجات کے نوے فیصد تو اساتذہ کی تنخواہوں کو جاتے ہیں جبکہ صرف دس فیصد پڑھانے کے نئےطریقے متعارف کروانے کے لیے خرچ ہوتے ہیں ’تعلیم کے معیار کو بہتر کرنے کے لیے بھی کوشش نہیں کی جاتی۔ جی ڈی پی کے دو فیصد میں سے مزید دس فیصد کو کلاس کے ماحول کو خوشگوار بنانے یا پڑھائی کے تخلیقی طریقوں پر تحقیق کرنے کے لیے خرچ ہوتے ہیں۔ اور اس دس فیصد میں سے کچھ حصہ وہ ہوتا ہے جو استعمال ہی نہیں ہوتا۔‘

خیال رہے کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت تعلیم اب صوبوں کے اختیار میں ہے اور اس کے لیے بجٹ اور آمدنی میں اضافے کی ذمہ داری ہر صوبے کی الگ ہے۔

اسی بارے میں