’اعتماد کی فضا بحال، مذاکرات جاری رہیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق خود طالبان شوریٰ سے مذاکرات کے لیے جا رہے ہیں

پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت اور کالعدم تنظیم تحریک طالبان کی شوریٰ کے درمیان براہ راست مذاکرات مکمل ہوگئے ہیں اور طالبان کی مذاکراتی ٹیم واپس پشاور پہنچ گئی ہے۔

طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق پہلی مرتبہ ملے ہیں اور مذاکراتی عمل جاری رہے گا۔

’دو فریق پہلی بار ملے ہیں اور انھوں نے آمنے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے سے بات کی ہے۔‘

مولانا سمیع الحق نے کہا ’ کوشش ہوگی کہ ڈیڈ لاک قائم نہ ہو۔ پہلے بھی ہم نے ڈیڈ لاک ختم کروایا تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ طالبان کی جانب سے مثبت اشارے ملے ہیں۔ ’ہم مایوس نھیں ہوں گے کیونکہ اعتماد کی فضا بحال ہوئی ہے۔‘

مولانا سمیع الحق کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کو طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے دو ادوار ہوئے۔

اس سے قبل طالبان کی طرف سے نامزد کردہ کمیٹی کے رکن سمیع الحق کے معاون احمد شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکرات کے دوران جنگ بندی کو توسیع دینے کے معاملے میں سب سے پہلے بات چیت ہو رہی ہے۔

احمد شاہ نے کہا کہ مذاکرات ٹل کے نواح میں کسی نامعلوم مقام پر ہو رہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہنگو کی تحصیل ٹل، تین قبائلی علاقوں، شمالی وزیرستان، کُرم ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی کے سنگم پر واقع ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بدھ کی سہ پہر کو کھانے اور نماز کے وقفے کے بعد طالبان شوری اور حکومتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہوا۔

قبل ازیں اسلام آباد اور پشاور سے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے حکومتی اور طالبان کمیٹیوں کے ارکان وزیرستان پہنچے تھے۔

ادھر اسلام آباد میں عسکری ذرائع اس بات کی تصدیق نہیں کر رہے کہ ان مذاکرات میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا بھی کوئی نمائندہ شریک ہے۔

عسکری ذرائع یہ بھی بتانے سے گریزاں ہیں کہ ان کمیٹیوں کو فوج کی طرف سے کوئی سکیورٹی فراہم کی گئی ہے کہ نہیں۔

قبل ازیں ریڈیو پاکستان نے کمیٹیوں کے قافلے کی شمالی وزیرستان کی تحصیل شوال کے علاقے سپنٹال پہنچنے کی اطلاع دی تھی۔

احمد شاہ نے بتایا کہ قافلے میں دونوں کمیٹیوں کے تمام اراکین شامل ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق خود طالبان شوریٰ سے مذاکرات کے لیے جا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل جماعتِ اسلامی کے رہنما پروفیسر ابراہیم خان نے کہا تھا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں قاری شکیل، اعظم طارق، مولوی ذاکر اور مولوی بشیر طالبان کی نمائندگی کریں گے۔

طالبان کے مذاکراتی کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم خان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ خراب موسم کی وجہ سے حکومتی کمیٹی منگل کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے قبائلی علاقے میں نہیں جا سکی تھی۔

احمد شاہ نے بتایا کہ کمیٹیوں کے اس دورے میں طالبان شوریٰ کے علاوہ دیگر طالبان رہنماؤں سے غیر رسمی ملاقاتیں بھی ہو سکتی ہے۔

طالبان کمیٹی کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کیا کہ آیا قافلے میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا کوئی نمائندہ شامل ہے یا نہیں۔

یاد رہے کہ کالعدم تحریکِ طالبان کےساتھ براہِ راست مذاکرات کے ایجنڈے پر بات چیت کے لیے حکومتی کمیٹی کے پیر کے اجلاس میں ملک کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لفٹنینٹ جنرل ظہیر السلام نے بھی شرکت کی تھی۔

پروفیسر ابراہیم کا کہنا تھا کہ طالبان سے مذاکرات میں پہلی ترجیح مستقل امن کا قیام یا کم ازکم جنگ بندی میں توسیع کروانا ہے۔

طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے حکومتی کمیٹی پورٹس اور شپنگ کے وفاقی سیکریٹری حبیب اللہ خان خٹک، ایڈیشنل چیف سیکریٹری فاٹا ارباب محمد عارف، وزیرِاعظم سیکریٹریٹ میں ایڈیشنل سیکریٹری فواد حسن فواد سمیت سابق سفیر اور پی ٹی آئی کے رہنما رستم شاہ مہمند پر مشتمل ہے۔

واضح رہے کہ رستم شاہ مہمند اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ ان مذاکرات میں وہ طالبان سے پاکستان کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے اور پنجاب کے مرحوم گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے کی رہائی کا مطالبہ کریں گے۔ دوسری جانب طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کہہ چکے ہیں کہ انھوں نے حکومت کو طالبان کے بچوں، بوڑھوں اور خواتین کی ایک فہرست دی ہے جن کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ وزیرِاعظم پاکستان نواز شریف نے 13 مارچ کو کہا تھا کہ طالبان کے مطالبات پر غور ہو رہا ہے لیکن آئین اور قانون سے بالاتر کسی بھی مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں