’بلاول بھٹو کو لشکرِ جھنگوی کی دھمکیاں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلاول بھٹو طالبان کی کھلے عام مذمت کرنے والے سیاستدان کے طور پر سامنے آئے ہیں

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ انھیں کالعدم شدت پسند تنظیم لشکرِ جھنگوی کی جانب سے دھمکیاں دی گئی ہیں۔

جمعرات کو مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ انھیں لشکرِ جھنگوی کی جانب سے دھمکی آمیز خط ملا ہے۔

بلاول نے یہ بھی کہا کہ اگر شریف (نواز اور شہباز شریف) اس تنظیم کو تحفظ دیتے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے سے انکاری رہے تو وہ لشکرِ جھنگوی کے حملوں کی ذمہ دار پنجاب حکومت کو سمجھیں گے۔

اپنے ایک اور ٹویٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے واضح کیا کہ یہ دھمکی صرف ان کے لیے نہیں ہے بلکہ ان کی جماعت اور حکومتِ سندھ کے علاوہ پولیس اور رینجرز کے افسران کے لیے بھی ہے۔

ادھر پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیراعلٰی پنجاب شہباز شریف نے بلاول بھٹو کے بیان کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کی ہدایت جاری کر دی ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیراعلٰی پنجاب نے پنجاب کے آئی جی پولیس کو بلاول سے رابطہ کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other

خیال رہے کہ بلاول بھٹو گذشتہ چند ماہ میں طالبان کی کھلے عام مذمت کرنے والے سیاستدان کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

گذشتہ دسمبر میں اپنی والدہ بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر اپنے باقاعدہ سیاسی کریئر کی افتتاحی تقریر میں انھوں نے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف ’اعلانِ جنگ‘ کیا تھا اورگذشتہ ماہ سندھ فیسٹیول کے اختتام پر اپنے خطاب میں کہا تھا کہ طالبان پاکستان کو اسلام کے نام پر پتھر کے دور میں لے جانا چاہتے ہیں۔

اس سے قبل بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں بھی وہ کہہ چکے ہیں کہ ملک کے کچھ سیاستدان خوفزدہ اور بزدل ہیں اور وہ دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے معاملے پر جان بوجھ کر قوم کو مغالطے میں ڈال رہے ہیں۔

خیال رہے کہ لشکرِ جھنگوی کا قیام 1990 کی دہائی میں عمل میں آیا تھا۔

پولیس کے مطابق یہ کالعدم تنظیم شیعہ مسلک کے افراد کے وسیع پیمانے پر قتل میں ملوث رہی ہے اور اب اس کے روپوش کارکنوں کے تعلق تحریک طالبان سے استوار ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں