مشرف کے وکیل کے رویے سے خفا: جج عدالت سے چلےگئے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ملزم پرویز مشرف کے وکیل انور مقصود کہہ چکے ہیں کہ انھیں اس عدالت کے بینچ کی جانب داری پر تحفظات ہیں

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب جمعرات کی صبح مشرف کے وکیل کے رویے کے خلاف ناراض ہو کر مقدمے کی سماعت سے اٹھ کر چلے گئے۔ تاہم وہ اس مقدمے سے علیحدہ نہیں ہوں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق خصوصی عدالت کے بینچ نے ایک تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ جسٹس فیصل عرب جب جمعرات کی صبح سماعت سے اٹھ کر گئے تھے تو ’سماعت صرف آج کے لیے ہی برخاست کی گئی تھی اور اس کی وجہ ملزم کے وکیل انور منصور کا رویہ تھا۔‘

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار ہے اور 31 مارچ کو ان پر فردِ جرم عائد ہوگی۔

یاد رہے کہ جمعرات کو پرویز مشرف غداری کیس کی سماعت قبل از وقت روکے جانے کے بعد عدالت کے باہر پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’جب سماعت کے دوران بحث میں کشیدگی آ گئی تو عدالت نےمشرف کے وکلا سے پوچھا کہ ’کیا آپ اس بینچ سے مطمئن ہیں‘ جس پر وکلا نے کہا کہ وہ اس بینچ سے مطمئن نہیں۔‘

احمد رضا قصوری کے مطابق ’اس موقع پر جسٹس فیصل عرب کا کہنا تھا کہ اگر آپ مطمئن نہیں تو پھر ہم بھی اس کیس کو آگے نہیں چلانا چاہتے جس کے بعد وہ سماعت سے اٹھ کر چلے گئے۔‘

یاد رہے کہ سماعت کے موقع پر پیدا ہونے والے کشیدگی کی وجہ یہ تھی کہ ملزم پرویز مشرف کے وکیل انور منصور کہہ چکے ہیں کہ انھیں اس عدالت کے بینچ کی ’جانب داری پر تحفظات‘ ہیں۔

جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں خصوصی عدالت کا بینچ جانب داری کے حوالے سے درخواست پر پہلے ہی فیصلہ سنا چکا ہے۔

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت میں خصوصی عدالت نے ملزم پرویز مشرف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں اور اُنہیں 31 مارچ کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہوا ہے۔

جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی بینچ اس مقدمے کی سماعت کر رہا تھا۔

اس مقدمے میں اب تک پرویز مشرف پر فردِ جرم عائد نہیں ہو سکی ہے کیونکہ وہ عدالت میں پیش ہونے سے متعدد بار گریز کر چکے ہیں جس کی وجہ ان کے وکلا سکیورٹی خدشات بتاتے ہیں۔ جمعرات کی سماعت کے دوران پرویز مشرف کے وکیل انور منصور نے کہا کہ چودہ مارچ کو جو عدالتی حکم آیا تھا اُس میں عدالت نے ان کا ایک بیان منسلک کیا تھا کہ ملزم کے وکیل (انور منصور) نے کہا ہے کہ پرویز مشرف جان بوجھ کر عدالت میں پیش نہیں ہونا چاہتے۔

انور منصور کا کہنا تھا کہ دراصل اُنھوں نے کہا تھا کہ سیکیورٹی خدشات کی بنا پر وہ اپنے موکل کو عدالت میں پیش ہونے پر مجور نہیں کرسکتے کیونکہ عدالت نے بھی امن وامان کے موجودہ حالات اور ملزم کی سیکیورٹی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ کی تعیناتی پر سابق فوجی صدر کے وکلاء نے اعتراضات اُٹھائے تھے اور اسی پر بحث جاری تھی۔ جب اکرم شیخ دلائل دینے کے لیے اُٹھے تو پرویز مشرف کے وکیل نے اعتراض کیا کہ چونکہ درخواست چیف پراسیکیوٹر کے خلاف ہے اور عدالت نے اس سے متعلق فیصلہ بھی محفوظ کر رکھا ہے اس سے اکرم شیخ دلائل نہیں دے سکتے۔ اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس فیصل عرب کا کہنا تھا کہ یہ عدالت کا اختیار ہے کہ وہ کس کو بولنے کی اجازت دے۔

انور منصور نے کہا کہ اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ اس مقدمے کے آغاز سے ہی اُن کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک ہو رہا ہے اور ایسے حالات میں وہ دلائل نہیں دے سکتے جس پر بینچ کے سربراہ یہ کہہ کر اُٹھ کر چلے گئے کہ اگر وہ دلائل نہیں دے سکتے تو ملک میں ججز کی کوئی کمی نہیں ہے اور ایسے حالات میں عدالت کو بھی اس مقدمے کی کارروائی کو آگے بڑھانے کا کوئی شوق نہیں۔

اکرم شیخ بارہا جج صاحبان کو بیٹھنے کے لیے کہتے رہے لیکن اُنھوں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی اور وہ پہلے تو اُٹھ کر اپنے چیمبرز میں چلے گئے اور پھر بعدازاں وہاں سے اپنی رہائش گاہوں کی طرف روانہ ہوگئے۔

اس پیش رفت کے بعد مقامی میڈیا میں یہ خبریں آنا شروع ہوگئیں کہ جسٹس فیصل عرب پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ سے الگ ہوگئے ہیں۔ بعد میں خصوصی عدالت کو یہ بیان جاری کرنا پڑا کہ عدالت نے صرف جمعرات کے لیے ہی اس مقدمے کی سماعت ملتوی کی ہے اور پرویز مشرف کے خلاف اس مقدمے کی سماعت اکتیس مارچ کو ہوگی اور اُسی دن اُن پر فرد جُرم عائد کی جائے گی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جمعرات کی عدالتی کارروائی کے بارے میں پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے صحافیوں کو تفصیلات بتائیں

پرویز مشرف کے وکلا عدالت میں کہہ چکے ہیں کہ وفاقی وزارتِ داخلہ کی طرف سے جاری ایک سکیورٹی الرٹ میں کہا گیا تھا کہ پرویز مشرف کو کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی طرف سے خطرہ ہے اور انھیں اے ایف آئی سی سے خصوصی عدالت جاتے ہوئے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

سکیورٹی الرٹ کے مطابق پرویز مشرف کو سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی طرح ان کا اپنا کوئی سکیورٹی اہل کار نشانہ بنا سکتا ہے۔

اسی بارے میں