خیبر پختونخوا کابینہ میں پانچ نئے وزرا شامل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نئے وزراء اور مشیروں میں سے زیادہ تر کا تعلق حکمران جماعت تحریک انصاف سے ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی حکومت نے پہلی مرتبہ صوبائی کابینہ میں توسیع کرتے ہوئے پانچ نئے وزرا، چار نئے معاونینِ خصوصی اور ایک مشیر کو کابینہ کا حصہ بنا لیا ہے۔

اس بات کا فیصلہ جمعرات کو پشاور میں وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی سربراہی میں ہونے والے صوبائی کابینہ کے ایک اجلاس میں کیا گیا۔

کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات شاہ فرمان نے کہا کہ کابینہ میں شامل کیے گئے نئے وزراء میں مشتاق غنی، قلندر لودھی، میاں جمشیدالدین کاکاخیل ، اکرام اللہ خان گنڈا پور اور ضیا اللہ آفریدی شامل ہیں۔

ان کے مطابق چار نئے معاون خصوصی بھی بنائے گئے ہیں جن میں اشتیاق ارمڑ، عارف یوسف، عبدالمنیم خان اور محب اللہ شامل ہیں جبکہ اکبر ایوب کو وزیراعلیٰ کا مشیر بنا دیا گیا ہے۔

کابینہ میں شامل کئے گئے نئے وزراء اور مشیروں میں سے زیادہ تر کا تعلق حکمران جماعت تحریک انصاف سے ہے۔

شاہ فرمان کا کہنا تھا کہ وزراء کو ان کے محکمے بعد میں دیے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت میں شامل عوامی جمہوری اتحاد سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر شاہرام خان ترکئی کو سینیئر وزیر بنا دیا گیا ہے جبکہ صوبائی وزیر صحت شوکت علی یوسف زئی سے صحت کا قلم دان لے کر انہیں وزیرِ صنعت بنادیا گیا ہے۔

شاہ فرمان نے مزید بتایا کہ کابینہ نے خیبر پختون خوا انجرڈ پرسن (میڈیکل ایڈ ) بل کی منظوری دے دی ہے جس سے روڈ ایکسیڈنٹ، فائرنگ کے واقعات یا بم دھماکوں میں زخمی ہونے والوں کو پولیس کی معمول کی کاروائی اور لواحقین کی اجازت اور دیگر ضابطے کی کارروائی کے بغیر فوری ضروری طبی امداد فراہم کی جا سکے گی تاکہ مجروح ضروری طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ہلاک نہ ہوں۔

ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو دو سال تک قید یا دس ہزار روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں اور کل جرمانے کی آدھی رقم زخمی شخص کے لواحقین کو دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں 60 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کی فلاح و بہبود کے لیے قانون سازی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں