’زبردستی کی شادیاں جدید دنیا میں قابلِ قبول نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption گورڈن براؤن ان دنوں وزیراعظم پاکستان کی دعوت پر اسلام آباد میں ہیں

سابق برطانوی وزیراعظم اور اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی ایلچی برائے تعلیم گورڈن براؤن نے کہا ہے کہ پاکستان میں ’کم عمری کی شادی سے پاک‘ علاقے بنائے جائیں گے۔

بی بی سی کی شمائلہ جعفری کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے گورڈن براؤن نے کہا کہ بچیوں کو زبردستی شادی پر مجبور کرنا ’جدید دنیا میں قابلِ قبول نہیں ہے‘ اور اس سے ’لڑکیاں اپنی تعلیم اور بچپن کھو بیٹھتی ہیں۔‘

گورڈن براؤن نے اسلام آباد میں ایک تقریب میں اعلان کیا کہ اقوامِ متحدہ پاکستان کو ایک کروڑ ڈالر جبکہ یورپی یونین ایک سو ملین یورو فراہم کریں گے تا کہ زیادہ سے زیادہ پاکستانی بچے سکول داخل ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ بچیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تا کہ وہ خود اپنے حقوق سے باخبر ہوں، اساتذہ اور لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ مل جل کر کام کریں اور ان لوگوں سے جو بچیوں کی کم عمری میں شادی کا کہتے ہیں کہیں کہ یہ قابلِ قبول نہیں ہے۔‘

گورڈن براؤن نے کہا کہ ’پاکستان میں ہم ایک منصوبہ شروع کر رہے ہیں جس کے تحت ہم بعض علاقوں کو بچوں کی شادی سے پاک علاقہ یا زون قرار دیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے پاکستان میں حمایت موجود ہے جبکہ اس کے لیے سرمایا فراہم کیا جائے گا۔ اس طرح کے زون دوسرے ممالک میں بھی بنائے گئے ہیں۔

سابق برطانوی وزیراعظم نے مزید کہا کہ ’پاکستان میں ایسے گروہ ہیں جو چاہتے ہیں کہ بچوں کی فروخت کر کے کم عمری میں شادی کروانے کے عمل کو آسان بنایا جائے جو قابلِ قبول نہیں ہے۔‘

اس مہم کے زریعے ہم لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ دنیا یہ نہیں چاہتی کہ بچیوں کی شادیاں کر دی جائیں بلکہ بچپن میں انہیں سکول میں ہونا چاہیے۔

گورڈن براؤن وزیراعظم پاکستان کی دعوت پر ان دنوں اسلام آباد کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے ایک کانفرنس ’تعلیم کا نامکمل ایجنڈا‘ میں شرکت کی۔

اس کانفرنس سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ’یہاں ستر لاکھ بچے سکول نہیں جا رہے ہیں جو کہ جدید دنیا میں بالکل قابلِ قبول نہیں ہے اور مجھے معلوم ہے کہ وزیراعظم اس بارے میں کچھ کرنا چاہتے ہیں۔‘

گورڈن براؤن نے کہا کہ ’پاکستان اس مسئلے کے حل کے لیے تعلیم پر خرچ کی جانے والی رقم میں اضافہ کر سکتا ہے اور ہم اس حوالے سے عالمی برادری سے پاکستان کے لیے امداد حاصل کر سکتے ہیں۔‘

گورڈن براؤن نے مزید کہا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ بچیوں کو کم عمری میں شادی پر مجبور کیا جائے، ہم بچوں سے جبری مشقت نہیں چاہتے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ بچوں اور بچیوں کو انسانی سمگلنگ میں دھکیلا جائے۔ ہم سکول چاہتے ہیں جن میں اساتذہ ہوں اور ہم اس مسئلے پر جلد سے جلد اثر انداز ہونا چاہتے ہیں کیونکہ ملینئم ڈویلپمنٹ کے اس ہدف کی ڈیڈ لائن اگلے سال دسمبر میں ہے کہ ہر بچہ سکول جائے۔‘

اسی بارے میں