قیدیوں کی رہائی طالبان کا مطالبہ نہیں: رستم شاہ مہمند

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مذاکرات کے لیے آئندہ کا لائحـۂ عمل کا خاکہ تیار کیا گیا: رستم شاہ مہند

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے بنائی گئی حکومتی کمیٹی کے رکن رستم شاہ مہمند نے کہا ہے کہ طالبان نے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ خواہش ظاہر کی ہے کہ قیدیوں کی رہائی پر پیش رفت ہو۔

رستم شاہ مہند نے بی بی سی کو بتایا کہ’ایسی کوئی بات نہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ ان کو رہا کیا جائے، مطالبہ نہیں ہے، انھوں نے خواہش ظاہر کی کہ قیدیوں کے معاملے پر کوئی پیش رفت ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت قیدیوں کے معاملے پر نظرثانی کر رہی ہے کہ اگر کسی کو بغیر ثبوت کے گرفتار گیا ہے تو حکومت ان کو رہا کرنے پر ضرور غور کرے گی۔

سنیئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان کی طرف سے قیدیوں کی رہائی کو پہلے تجویز کا نام دیا گیا تھا اور اب اسے خواہش قرار دیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ یہ فی الحال تجویز ہی ہے اور طالبان نے دو ٹوک الفاظ میں قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ نہیں کیا۔

انھوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل کو آگے لے جانے کے لیے جنگ بندی ضروری ہے۔

یاد رہے کہ حکومت سے مذاکرات کرنے والی طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے جمعرات کو کہا تھا کہ طالبان نے ابتدائی طور پر تین سے چار سو قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

قیدیوں کی فہرست کے بارے میں سوال پر انھوں نے کہا تھا کہ ’پہلی فہرست جو دی گئی ہے اس میں تین سے چار سو افراد کے نام شامل ہیں جن کے بارے میں حکومت نے تفتیش اور تحقیق کا وعدہ کیا ہے۔‘

مولانا سمیع الحق نے کہا تھا کہ فریقین میں سے کسی نے ابھی قیدیوں کی رہائی سے انکار نہیں کیا اور بات آگے بڑھے گی تو مزید اقدامات ہوں گے۔

مذاکراتی عمل میں ڈیڈ لاک پر سوال کے جواب میں رستم شاہ مہمند نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں کوئی ڈیڈ لاک یا رکاؤٹ نہیں ہے اور جو نقاط طالبان اور جو ہم نے اٹھائے ہیں ان پر غور ہو رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ مرحلہ وار کام ہوگا جسے آہستہ آہستہ طے ہونا ہے۔ انھوں نے مذاکراتی عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ضروری ہے کہ جو عمل ہے اس کو ٹریک یا راستے پر رکھا جائے جو کہ ٹریک پر ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ دیگر بھی بہت سے معاملات ہیں جس پر بات چیت ہو رہی ہے۔

رستم شاہ مہمند نے طالبان کے فری پیش زون کے مطالبے کے بارے میں کہا کہ یہ ہونا چاہیے۔ ’میٹنگ کے لیے آنے جانے کے لیے انھیں سہولت دی جائے تاکہ وہ بغیر کسی خوف وہ خطر کے ہمارے ساتھ بات چیت کر سکے اور یہ بات ہم پر بھی لاگو ہوتی ہے کہ ہم کوئی ایسی جگہ ڈھونڈ لیں جہاں جانے کے لیے ہمیں آسانی ہو۔‘

ان کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں ایسی جگہیں ہیں جہاں پر طالبان اور ہم بات چیت کے لیے آسانی سے آ جا سکتے ہیں اور یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کی وجہ سے بات چیت میں کا عمل خراب ہو۔

حکومتی کمیٹی کے رکن نے جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے حوالے سے کہا کہ ہم نے طالبان سے کہا ہے کہ ’جنگ بندی کی ڈیڈ لائن ختم بھی ہو جائے تو آپ سمجھے کہ جنگ بندی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ چند دنوں میں طالبان کے ساتھ ایک اور ملاقات ہوگی اور ہم یہی تصور کریں گے کہ جنگ بندی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ طالبان نے کہا کہ ان کے خلاف آپریشنز ہو رہے ہیں تو انھوں نے کہ ان تمام معاملات پر حکومت غور کر رہی ہے۔

اسی بارے میں