جو وزیر اعظم تجویز کریں گے وہی کروں گا: صدر ممنون

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وکیلِ استغاثہ اکرم شیخ نے کہا کہ مقدمہ یہ نہیں کہ پرویز مشرف نے ملک یا قوم سے غداری کی ہے بلکہ معاملہ آئین شکنی کا ہے

صدر پاکستان ممنون حسین نے کہا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے اگر معافی کی درخواست کی گئی تو وہ اس پر وزیراعظم کی سفارش کے مطابق عمل کریں گے۔

مشرف پر غداری کا مقدمہ: کب کیا ہوا؟

’جنرل صاحب، میں متعصب نہیں ہوں‘

بی بی سی اردو سروس کے ٹیلی وژن پروگرام سیربین کی پاکستان میں نشریات کے آغاز کے موقع پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ آئین کے تحت وہ وزیراعظم کی تجویز پر ہی اس قسم کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

بغاوت کے مقدمے کے فیصلے کے بعد سابق صدر کی معافی کی ممکنہ درخواست پر فیصلے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر ممنون حسین نے کہا ’یہ ایسے معاملات ہوتے ہیں کہ ان پر وزیراعظم جو تجویز پیش کرتے ہیں میں وہی راستہ اختیار کرتا ہوں۔ اس لیے کہ مجھے پتہ ہے کہ اگر اس ملک کو ٹھیک طریقے سے چلانا ہے تو ہر جگہ جو طور طریقے ہمیں بتائے گئے ہیں ان کے مطابق چلنا ہے۔ آئین اس معاملے میں مجھے کہتا ہے کہ وہ اس معاملے میں وزیراعظم کی سفارش ہوگی، میں اس کے مطابق چلوں گا۔‘

قبل ازیں اسلام آباد میں خصوصی عدالت میں جاری غداری کے مقدمے میں پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

وہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے شخص ہیں جن کے خلاف آئین شکنی پر مقدمہ چل رہا ہے۔

پیر کو سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس طاہرہ صفدر نے آئین شکنی کے پانچ الزامات پر مشتمل فردِ جرم پڑھ کر سنائی تاہم ملزم نے صحتِ جرم سے انکار کیا اور خود پر عائد الزامات مسترد کر دیے۔

سماعت کے دوران پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ انھوں نے بطور صدر اور فوج سربراہ ملک کی خدمت کی اور غداری کے لفظ کا استعمال ان کے لیے تکلیف دہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نےجو کچھ بھی کیا ملک اور قوم کی بہتری کے لیے کیا اور ان پر عائد تمام الزامات بےبنیاد ہیں۔

اس موقع پر وکیلِ استغاثہ اکرم شیخ نے کہا کہ مقدمہ یہ نہیں کہ پرویز مشرف نے ملک یا قوم سے غداری کی ہے بلکہ معاملہ آئین شکنی کا ہے اور ’ہم پرویز مشرف کی ملک و قوم سے وفاداری پر کیس نہیں کر رہے‘۔

سابق فوجی صدر کو نومبر2007 میں ملک میں ایمرجنسی نافذ کر کے آئین کو پامال کرنے کے الزام میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل چھ کے تحت غداری کے مقدمے کا سامنا ہے اور اس مقدمے کی سماعت جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں خصوصی عدالت کا تین رکنی بینچ کر رہا ہے۔

گذشتہ سماعت میں عدالت نے ملزم پرویز مشرف کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں آج یعنی 31 مارچ کو ہر صورت عدالت کے سامنے حاضر ہونے کا حکم دیا تھا تاکہ ان پر فردِ جرم عائد کی جا سکے۔

عدالت نے فیصلہ دے رکھا تھا کہ اگر پرویز مشرف عدالتی احکامات ماننے سے انکار کرتے ہیں تو پولیس انہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرے اور اس سلسلے میں اسلام آباد پولیس کے افسران کی ٹیم بھی تشکیل دی گئی تاہم پرویز مشرف نے خود عدالت میں آنے کا فیصلہ کیا۔

پیر کو پرویز مشرف کی پیشی کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے اور چار مختلف مقامات پر روٹ لگائے گئے جن پر دو ہزار سے زیادہ اہلکار تعینات تھے۔

عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کے بعد پیر کو پرویز مشرف کے وکلا میں سے کوئی عدالت میں پیش نہیں ہوا تاہم ملزم کے ہمراہ بیرسٹر فروغ نسیم عدالت میں پہنچے اور وہی آج دلائل دے رہے ہیں۔

سابق صدر کے وکلا کی ٹیم کے رکن احمد رضا قصوری تاخیر سے عدالت تو پہنچے تاہم انھیں احاطے میں داخل ہونے نہیں دیا گیا۔ اس موقع پر انھوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ وہ وکیل کی حیثیت سے نہیں بلکہ پرویز مشرف کی جماعت کے رکن کی حیثیت سے آئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ خصوصی عدالت کے ایک جج گذشتہ پیشی پر سماعت سے دست بردار ہو گئے تھے اس لیے اصولی طور پر بینچ ٹوٹ چکا ہے اور اس کی کوئی آئینی، قانونی یا اخلاق حیثیت ہیں۔

خیال رہے کہ 27 مارچ کو مقدمے کی سماعت کے دوران خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب پرویز مشرف کے وکیل کے رویے سے ناراض ہو کر مقدمے کی سماعت کے دوران اٹھ کر چلے گئےتھے۔ تاہم بعدازاں عدالتی حکم میں کہا گیا تھا کہ وہ بینچ سے الگ نہیں ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ پرویز مشرف اس وقت کسی حکومتی ادارے کی تحویل میں نہیں ہیں اور ان پر قائم تمام مقدمات میں وہ ضمانت پر رہا ہیں۔

اسی بارے میں