’غداری مقدمے کے منطقی انجام تک پہنچنے کی امید نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آج کے دن کو پاکستان کی تاریخ میں سنہرے دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا: پرویز رشید

پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے والی خصوصی عدالت نے پیر کو ان کے خلاف فردِ جرم عائد کی تاہم قانونی ماہرین کو اس مقدمے کے منطقی انجام تک پہنچنے کی امید نہیں ہے۔

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے آغاز پر آج کے عدالتی فیصلے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری افواج کو یہ تلخ گھونٹ پینا پڑے گا کہ ملک میں آئین کی بالادستی ہو گی۔

’ ہمارا جو جرنیل ملک کے لیے لڑے گا ہم اسے سلام کریں گے لیکن جو ملک پر حملہ کرے گا وہ مردہ باد۔‘

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ نے آج ایک خواب کو حقیقت بنایا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’یہ فیصلہ عدلیہ اور وقت کرے گا کہ پرویز مشرف کو علامتی سزا ملے گی یا اس پر عمل درآمد ہوگا۔‘

وزیرِدفاع نے کہا کہ پرویز مشرف کے بڑے قصیدہ گوہ اس ایوان میں موجود ہیں لیکن وہ جمہوریت کے علمبردار بنے بیٹھے ہیں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کی والدہ کو ائیر ایمبولینس میں ملک لایا جا سکتا ہے۔

’پاکستان کی جیلیں ان لوگوں سے بھری پڑی ہیں جن کے بچے اور والدین بیمار ہیں تو کیا قانون کی کاروائی روک دی جائے؟‘

وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ آج کے دن کو پاکستان کی تاریخ میں سنہرے دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

قانونی ماہرین اس مقدمے کے بارے میں آنے والے فیصلے کو غیر معمولی تو نہیں سمجھتے تاہم ان کا خیال ہے کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ آگے کیسے بڑھے گا؟

ماہر قانون سلمان اکرم راجہ نے بی بی سی کے پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے کہا ’عدالت میں فردِ جرم عائد ہونے کے بعد پرویز مشرف نے جو کہا وہ ان کی اپنی ذاتی رائے تھی۔‘

انھوں نے کہا غداری صرف یہ نہیں کہ آپ دشمن کو قومی راز دے دیں، آئین کہتا ہے کہ یہ ٹریزن ہے۔

’اگر آئین نے یہ کہا ہے کہ بڑے پیمانے پر آئین کی پامالی اور آئینی نظام کو مفلوج کردیا جائے اس صورت میں اس عمل کو ٹریزن کہا گیا ہے اور اس کا ترجمہ ہم غداری ہی کرتے ہیں۔‘

یہاں ایک اہم سوال یہ ہے کہ اب جب کہ اس مقدمے کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے تو گواہیاں کس قسم کی آ سکتی ہیں؟

اس سوال کے جواب میں سلمان اکرم راجہ کہتے ہیں عدالت پرویز مشرف کے خلاف گواہان کے طور پر اور لوگوں کو طلب کر سکتی ہے تاہم یہ عدالت پر منحصر ہے کہ وہ انھیں دفاع کی کتنی اجازت دے گی؟۔

’ کوئی ملزم یہ نہیں کہہ سکتا کہ چونکہ ان کے ساتھ اس جرم میں اور لوگ بھی شامل تھےاس لیے انھیں چھوڑ دیا جائے۔‘

معروف قانون دان ایس ایم ظفر کہتے ہیں کہ پرویز مشرف نے اچھا کیا کہ وہ عدالت میں آئے اب یہ مقدمہ دوسرے مرحلے میں چلا گیا ہے جو سماعت کا ہے۔

ایس ایم ظفر کہتے ہیں کہ اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں کہ عدالت نے فردِ جرم عائد کی تاہم پرویز مشرف نے صحت جرم سے انکار کیا۔

ان کا خیال ہے کہ یہ مقدمہ طوالت اختیارکرے گا اس میں انصاف کے تقاضے پورے ہوتے نظر نہیں آتے۔

’جتنی دیر ہوتی جائے گی پاکستان کی افواج میں اتنا ہی تذبذب بڑھتاجائے گا۔‘

اسی بارے میں