’افغانستان کا اضافی دفاعی سامان پاکستان کو دینے پر غور ہورہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امکان ہے کہ یہ فاضل ساز و سامان افغانستان میں امریکی سامان کے ذخیرے سے دیا جائے

امریکہ کا کہنا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد اضافی فوجی ساز و سامان کی فروخت کے لیے پاکستان کی درخواست زیرِ غور ہے تاہم پاکستان کے عسکری ذرائع کہتے ہیں کہ پاکستان نے اس سلسلے میں باقاعدہ کوئی درخواست نہیں دی ہے۔

’افغانستان میں بچا امریکی اسلحہ پاکستان کے لیے نہیں‘

امریکی سفارت خانے کے بیان کے مطابق افغانستان میں موجود دفاعی ساز و سامان امریکی فوج کے ساتھ نہیں لے جایا جائے گا بلکہ عالمی ایکسس ڈیفینس آرٹیکل پروگرام کے تحت تمام اہل ممالک، جن میں افغانستان اور پاکستان دونوں شامل ہیں، اُنہیں یہ اضافی سامان دیا جاسکتا ہے۔

امریکی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان نے مختلف قسم کے فاضل دفاعی ساز و سامان خریدنے کی درخواست دے رکھی ہے جس پر امریکہ غور کر رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امکان ہے کہ یہ فاضل ساز و سامان افغانستان میں امریکی سامان کے ذخیرے سے دیا جائے۔ پاکستان میں امریکی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ امریکہ پاکستان کو سلامتی کے کئی منصوبوں میں تعاون فراہم کر رہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے عسکری ذرائع بتاتے ہیں کہ چونکہ آج کل افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلاء کے ساتھ ساتھ اسلحہ لے جانے کا معاملہ بھی زیر بحث ہے اور اس پر کافی خرچہ آتا ہے تو اسی پس منظر میں یہ بات نکلی تھی کہ کچھ بارودی سُرنگوں سے محفوظ رہنے والی گاڑیاں کیوں نہ پاکستان کو دے دی جائیں جس کی پاکستان کو ضرورت بھی ہے۔

اس بارے میں پاکستان کا مؤقف تھا کہ وہ صرف وہی آلات و اسلحہ لینے میں دلچسپی رکھتا ہے جو صحیح حالت میں ہو۔ پاکستان کو ضرورت ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جتنا کاٹھ کباڑ ہے وہ دے دیا جائے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل واشنگٹن پوسٹ کی ایک خبر سامنے آئی تھی جس میں کہا گیا تھا تھا کہ شاید امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون افغانستان سے اس سال افواج نکالنے سے پہلے پاکستان کو پانچ ارب ڈالرکا اسلحہ دے گا جس میں بکتربند گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ لیکن امریکی فوج نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں باقی بچ جانے والا امریکی اسلحہ پاکستان کونہیں دیا جائےگا اور اس کے حوالے سے افغان رہنماؤں کے خدشات اور امریکی میڈیا میں خبریں درست نہیں ہیں۔

امریکی ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی خبروں کے بعد افغانستان کے صدارتی ترجمان ایمل فیضی نے کہا تھا کہ ان کا ملک پاکستان کو اسلحہ دینے کی مخالفت کرے گا۔

پاکستان کے عسکری ذرائع نے بھی ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور پاکستان کے درمیان افغانستان میں باقی بچ جانے والے امریکی اسلحہ کو دینے کی باقاعدہ بات چیت شروع ہوتی ہے تو افغانستان سمیت بھارت کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آنے کا خدشہ ہے۔

اسی بارے میں