’پاکستانی معاشی شرح نمو، نیپال اور افغانستان سے کم‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption موجودہ حکومت کا دعوی ہے کہ ان کے دور میں معیشت بحالی کی طرف جا رہی ہے

ایشیائی ترقیاتی بینک کا کہنا ہے کہ سال دو ہزار چودہ میں جنوبی ایشیا ممالک میں پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح سب سے کم رہنے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح نمو تین اعشاریہ چار فیصد متوقع ہے جو کہ جنگ زدہ ملک افغانستان اور نیپال سے بھی کم ہے۔

ایشائی ترقیاتی بینک نے خطے کی معشیت سے متعلق رپورٹ ’ایشین ڈویلپمنٹ آؤٹ لک‘ دو ہزار چودہ کا اجرا کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے ہے کہ دو ہزار چودہ میں جنوبی ایشائی ممالک کی اقتصادی ترقی کی شرح پانچ اعشاریہ تین رہے گی۔

ایشائی ترقیاتی بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ گو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال معشیت کی کارکردگی میں قدرے بہتری کا امکان ہے لیکن سال کے اختتام تک پاکستان میں مہنگائی شرح میں اضافہ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

ایشائی ترقیاتی بینک کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں نو فیصد تک بڑھ سکتی ہی۔

پاکستان کو بیرون ممالک سے ملنے والی اضافی رقوم پر بھی بینک نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو غیر ملکی زرمبادلہ کے حصول کے لیے مستحکم ذریعوں پر انحصار کرنا چاہیے۔

ایشائی ترقیاتی بینک کی پاکستانی مشن میں ماہر اقتصادیات فرزانہ نوشاب نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سیلز ٹیکس میں اضافے، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانے اور غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ سے مہنگائی کی شرح بڑھی ہے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے بعض شعبوں خصوصا توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے باعث پاکستان کی اقتصادیات میں قدرے بہتری آئی ہے لیکن ملک میں امن و امان کی ناقص صورتحال اور اخراجات میں بدستور اضافے کی وجہ سے کئی مسائل درپیش ہیں۔

ایشائی ترقیاتی بینک کا کہنا ہے کہ شدت پسندی کی وجہ سے سرمایہ کار عدم اعتماد کا شکار ہیں اور ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری بہت کم ہے اور لیکن اسی دوران صنعتی شعبے میں ترقی ہوئی ہے۔

ایشائی ترقیاتی بینک کا کہنا ہے کہ دوست ممالک سے آنے والی رقم سے وقتی طور پر پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے اور روپے کی قدر بھی مستحکم ہوئی ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ غیر ملکی رقوم کب تک پاکستان کے پاس موجود رہیں گی۔

اے ڈی بی سے وابستہ ماہر اقتصادیات فرزانہ نوشاب نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگرچہ روپے کی قدر بہتر ہوئی ہے جو معشیت کے لیے اچھا ہے لیکن دوسری جانب سے یہ ایک مرتبہ ملنے والی رقوم ہیں کوئی نہیں جانتا کہ یہ آئندہ سال ملیں گے بھی یا نہیں۔ اس طرح کی غیر ملکی رقوم پر ہمیں کچھ تحفظات ہیں۔‘

ایشیائی ممالک کی معشیت پر جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی اقتصادی ترقی اُس کی معاشی استداد کار کے مقابلے میں کم ہے اور دو ہزار چودہ میں بھارتی معشیت کی ترقی کی شرح پانچ اعشاریہ پانچ فیصد رہنے کا امکان ہے۔ جبکہ خطے میں سب سے زیادہ سری لنکا کی اقتصادی شرح نمو سات اعشاریہ پانچ فیصد تک متوقع ہے۔ رپورٹ میں پاکستان سمیت تمام ایشائی ممالک کو تجویز دی گئی ہے کہ وہ امیر اور غریب میں بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کے لیے عوامی فلاح بہبود پر زیادہ رقم خرچ کرئیں ۔