ایم کیو ایم کے دو کارکنوں کی لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کراچی آپریشن کی آڑ میں اس سے قبل بھی کئی کارکنوں کو گرفتار کرکے ماورائے عدالت قتل کیا جا چکا ہے: حیدر عباس

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے قریب ٹھٹہ کے نواحی علاقے سے دو لاشیں ملی ہیں، جنھیں گولیاں مارکر ہلاک کیا گیا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کا کہنا ہے کہ دونوں ان کے کارکن تھے جن کا ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔

قومی شاہراہ پر ٹھٹہ ضلعے کے علاقے دہابیجی سے پولیس کو منگل کی صبح دو افراد کی لاشیں ملیں ہیں۔

ہلاک ہونے والے دونوں افراد کی منصور احمد اور ثنا اللہ کے نام سے شناخت کی گئی ہیں اور ان کی عمر 35 سے 40 سال کے درمیان تھیں۔

ایس ایس پی ٹھٹہ افضل حسیب بیگ کا کہنا ہے کہ دونوں افراد کو نامعلوم جگہ سے اغوا کر کے قتل کیا گیا اور لاشیں دہابیجی میں پھینک دی گئیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ فوری طور پر واقعے کی وجوہات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔

دونوں لاشیں مکلی ہپستال پہنچائی گئیں، جہاں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دونوں افراد کو قریب سے تین تین گولیاں مارکر ہلاک کیا گیا ہے جبکہ جسم پر تشدد کے نشانات بھی موجود ہیں۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کا کہنا ہے کہ ثنا اللہ ان کے کارکن اور منصور احمد ہمدرد تھے اور انھیں کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے گذشتہ روز پیر کو گرفتار کیا گیا اور بعد میں دونوں کا ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا۔

ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی آپریشن کی آڑ میں اس سے قبل بھی کئی کارکنوں کو گرفتار کرکے ماورائے عدالت قتل کیا جا چکا ہے۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ اس سے پہلے لاپتہ تین کارکنوں عبدالجبار، یاور عباس اور شمشاد کی نوری آباد کے علاقے سے 19 مارچ کو مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ یاور عباسی جعفری کو چھ نومبر 2013 کو گرفتار کیا گیا جبکہ قصبہ علی گڑھ کے کارکن شمشاد جعفری کو چھ جنوری اور لائینز ایریا کے کارکن عبدالجبار کو آٹھ فروری کو گرفتار کیا گیا تھا۔

حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کراچی میں امن و استحکام چاہتی ہے ان کا موقف واضح ہے کہ اگر کسی بھی فرد کو گرفتار کیا جائے اس کو عدالت میں پیش کیا جائے، لیکن جس طرح ایم کیو ایم کے کارکنوں کو قتل کر کے لاشیں پھینکی جا رہی ہیں یہ سراسر ظلم اور بربریت ہے۔

انھوں نے متنبہ کیا کہ اس طرح کے ظلم و بربریت سے امن قائم نہیں ہوگا بلکہ لوگوں میں غم و غصے کے جذبات پیدا ہوں گے اور صورتحال مشکل کی طرف جائے گی۔

اسی بارے میں