’سزائے موت پر اپیل تو کی ہے لیکن امید نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ساون مسیح کو گذشتہ سال توہین رسالت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور عینی شاہدین کے مطابق دوستوں کے درمیان پراپرٹی کے جھگڑے کو مذہبی رنگ دیا گیا

پاکسان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں جوزف کالونی کے رہائشی ساون مسیح کے وکیل نے پیر کو ان پر سیشن کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے۔

ساون مسیح کو گذشتہ سال توہینِ رسالت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور عینی شاہدین کے مطابق دوستوں کے درمیان پراپرٹی کے جھگڑے کو مذہبی رنگ دیا گیا جس کے بعد مسیحی باشندوں کی پوری بستی کو تقریباً تین ہزار مشتعل افراد نے آگ میں جھونک دیا۔ آگ لگانے والے تمام مبینہ ملزمان کو ضمانت پر رہا کر دیا ہے لیکن ساون مسیح اب بھی قید میں ہیں۔

انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ کیس پاکستان میں قانون کے نام پر اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کا عکاس ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ توہینِ رسالت کے قوانین ریاست کی غیر مناسب نگرانی کی وجہ سے اکثر انتقامی کارروائی یا دشمنی کے مقاصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

دائیں بازو مذہبی گروپوں کے دباؤ کی وجہ سے اکثر حکومت خاموش تماشائی بن جاتی ہے۔

مسیحی برادری کے حقوق کے لیے سرگرم این جی او ’کلاس‘ کے سربراہ جوزف فرانسس نے کہا: ’عیسائی کمیونٹی اس طرح کے حالات سے بہت خوفزدہ اور حکومت سے ناراض بھی ہے۔ اگر حکومت بین الاقوامی فورم پر جا کر کہتی ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق برابر ہیں تو واضح کرے کہ اقلیتوں کا آئینی درجہ کیا ہے۔‘

جوزف کالونی کے باشندوں کو اس بات کا اندازہ گذشتہ سال ہوا جب پولیس اہل کاروں کی موجودگی میں لوگوں کی ایک بھیڑ نے ان کی چھوٹی سی بستی کو شعلوں کی نذر کر دیا۔

اس آگ میں ساون مسیح کے خاندان کا سب کچھ جل گیا تھا اور اب ان کے بیوی بچوں کے پاس ان کو یاد کرنے کے لیے ایک تصویر تک نہیں ـ

ثوبیہ مسیح لوگوں کے گھروں میں کام کاج کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہی تھیں لیکن شوہر کی سزائے موت کا سن کر ان کے حوصلے پست ہوتے نظر آ رہے ہیں: ’میں نے ایک سال تک اپنے شوہر کا انتظار کیا اور ہمارے بچوں کو پالا لیکن عدالت کا فیصلہ سن کر ہم پر بڑی مشکل گزر رہی ہے۔‘

دوسری جانب ساون مسیح کے وکیل نعیم شاکر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے موکل کی رہائی کے امکان سے زیادہ پر امید نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مذہبی نقطۂ نظر سے حساس کیسوں کو اکثر لٹکا دیا جاتا ہے جیسے آسیہ بی بی کے کیس میں ہوا۔

انھوں نے بتایا کہ 13 مارچ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس کیس کا ازخود نوٹس لے چکے تھے: ’چیف جسٹس نے پولیس اہل کاروں کو ڈانٹا کہ ایف آئی آر میں درج الزامات میں توہین رسالت کا ذکر تک نہیں ہے تو پھر ساون کو کس بنیاد پر قید کیا گیا؟‘

نعیم شاکر کے مطابق اس کے بعد ایک ’سپلیمنٹری ایف آئی آر‘ تیار کی گئی جو اصل سے مختلف تھی۔ انھیں اپنے موکل کی جان کا بھی خطرہ ہے۔ توہین رسالت کے مقدموں میں پہلے بھی ان کے دو موکل جیل میں ہی مارے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب جوزف کالونی کے باشندے بڑی مشکل سے اپنی تباہ شدہ بستی دوبارہ تعمیر کر چکے ہیں۔ وہ اب اس خوف سے پریشان ہیں کہ ساون مسیح کو ملنے والی سزا ایک بار پھر مشتعل ہجوم کو ان کے گھروں کی راہ دکھا دے گی اور ان کا بچا کھچا مال اسباب بھی نفرت کی آگ میں جل کر راکھ ہو جائے گا۔

ایک خاتون نے ہمیں یہ کہ کر رخصت کیا: ’پچھلی دفعہ بھاگتے ہوئے ہمیں اپنی چپل تک پہننے کا موقع نہیں ملا تھا، اس دفعہ بھاگنے کا موقع ہی نہ ملا تو کیا کریں گے؟‘

اسی بارے میں