افغان امیدواروں کی پاکستان کے بارے میں احتیاط

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان کے ساتھ تعلقات کو تنازعے کے طور پر نہیں لینا چاہیے: عبداللہ عبداللہ

افغانستان میں انتہائی اہم قرار دیے جانے والے صدارتی انتخابات کی مہم تو ختم ہوئی اور امیدواروں نے افغانوں کے لیے دودھ کی نہریں بہانے کے وعدے تو بہت کیے ہوں گے لیکن اس میں پاکستان کا کوئی زیادہ ’ذکرِ خیر‘ نہیں ہوا۔

تمام آٹھ امیدواروں نے اپنی طویل اور مشکل انتخابی مہم میں داخلی مسائل پر زیادہ توجہ دی ہے۔ سابق افغان وزیرِ دفاع شاہ نواز تنائی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغان ووٹروں کے لیے اس وقت بڑا مسئلہ روزی روٹی ہے۔

’امیدواروں نے بےشک اپنے منشور سے لوگوں کو آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ہمسایہ ممالک کےساتھ تعلقات کو اکثر امیدوراوں نے نظر انداز کیا ہے، وہ اس پر زیادہ بات نہیں کرتے ہیں۔‘

شاہ نواز تنائی کا کہنا تھا کہ ہمسایہ ممالک پر تنقید یا بات نہ کرنے کی ایک وجہ احتیاط بھی ہے: ’وہ نہیں چاہتے کہ انھیں کسی ہمسایہ ملک کے حامی یا مخالف کے طور پر دیکھا جائے، لہٰذا وہ ان سے متعلق بات کرنے سے کتراتے ہیں۔‘

انتخابی مہم کے دوران تقریروں میں نہ سہی لیکن ٹی وی چینلوں پر بحث مباحثے میں پاکستان کا ذکر ضرور آیا ہے۔ جمعیت اسلامی افغانستان کے امیدوار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے تلو ٹی وی پر ایک لائیو بحث میں کہا کہ معاشی ترقی، ثقافتی و تجارتی تعلقات میں اضافے سے پاکستان کے ساتھ اعتماد سازی میں مدد ملے گی۔

’اگر پاکستان نہیں سمجھتا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی ان کی اپنی سکیورٹی کے لیے مفید نہیں ہے تو میرے خیال میں وہ ایک ناقابل تلافی غلطی ہوگی۔‘

ایک اور امیدوار سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر غنی احمدزئی نے بھی پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا: ’دونوں ملک اس سطح کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش کریں جو فرانس اور جرمنی نے دوسری جنگ عظیم کے بعد حاصل کیا۔ مجھے خوشی ہے کہ پاکستان نے اعتراف کیا ہے کہ اس کی اپنی سکیورٹی افغانستان سے وابستہ ہے۔‘

ڈاکٹر زلمے رسول نے بی بی سی پشتو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان افغانستان کے لیے ایک اہم خارجہ پالیسی ایشو ہے: ’اگر میں منتخب ہوا تو دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک دوسرے کی خودمختاری کو مدنظر رکھ کر ازسرِ نو جائزہ لوں گا۔ اگر افغانستان میں امن نہ ہوا تو پاکستان میں بھی نہیں ہوگا۔ میں پاکستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے کام کروں گا۔‘

زلمے رسول کی انتخابی مہم کے رکن عنایت صافی نے بی بی سی کو بتایا کہ تمام امیدواروں نے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش ظاہر کی ہے: ’افغان سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے بغیر افغانستان میں نہ امن آ سکتا ہے نہ معاشی ترقی۔‘

اگرچہ پاکستان متفق ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان 26 سو کلومیٹر طویل سرحد، جسے ڈیورنڈ لائن بھی کہا جاتا ہے، ایک ختم شدہ مسئلہ ہے لیکن افغان اسے آج بھی اہم مانتے ہیں۔ لیکن اس متنازع مسئلے پر بھی صدارتی امیدواروں نے احتیاط سے کام لیتے ہوئے کوئی بات نہیں کی۔

عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کو تنازعے کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔ ڈاکٹر اشرف غنی نے بھی اس بابت کوئی بات نہیں کی ہے: ’مجھے امید ہے سرحد کی دونوں جانب لوگ اسے پرامن طریقے سے حل کریں گے۔‘

نامہ نگاروں کو یقین ہے کہ افغانستان میں انتخابات کے نتیجے میں جو بھی حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات اسی طرح گرم سرد چلتے رہیں گے۔

اسی بارے میں