بلوچستان: ایرانی شہری کی لاش لواحقین کے حوالے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption واشک انتظامیہ کے اہلکار نے ایران کی جانب سے اپنے پانچ سرحدی محافظوں کے اغوا کے بعد ان علاقوں میں سکیورٹی بڑھانے کی تصدیق کی ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع واشک سے ملنے والی ایرانی شہری کی لاش بدھ کو ان کے رشتہ داروں کے حوالے کردی گئی۔

واشک انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ایرانی شہری کی لاش گذشتہ روز ایرانی سرحد کے قریبی شہر ماشکیل سے ملی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ لاش ایک درخت سے لٹکی ہوئی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے ایرانی شہری کی جیب سے ایک پرچی ملی تھی جس کے مطابق اسے ہلاک کرنے کی ذمہ داری جیش العدل نامی تنظیم نے قبول کی ہے۔ پرچی پر یہ بھی تحریر تھا کہ مقتول ایرانی مخبر تھا۔

انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے شخص کو پانچ یا چھ روز قبل بلوچستان کے ایک اور سرحدی ضلع چاغی کے علاقے پک سے اغوا کیا گیا تھا۔

واشک انتظامیہ کے اہلکار نے ایران کی جانب سے اپنے پانچ سرحدی محافظوں کے اغوا کے بعد ان علاقوں میں سکیورٹی بڑھانے کی تصدیق کی ہے۔

خیال رہے کہ جیش العدل کا قیام سنہ 2012 میں عمل میں آیا تھا اور یہ گروپ گذشتہ برس اکتوبر میں اس وقت خبروں میں رہا تھا جب اس نے 14 ایرانی فوجیوں کو ایک کارروائی میں ہلاک کر دیا تھا۔

ان ہلاکتوں کے جواب میں ایرانی حکام نے 16 افراد کو پھانسی دی تھی جن کا تعلق سنی شدت پسند تنظیموں سے بتایا جاتا تھا۔

بلوچستان کی ایران سے متصل سرحد 900 کلومیٹر طویل ہے۔

اس سرحد پر بلوچستان کے پانچ اضلاع واقع ہیں جن میں واشک، چاغی، پنجگور، کیچ اور گوادر شامل ہیں۔

یاد رہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان اغوا کاروں کو بلوچستان منتقل کر دیا گیا تھا۔

گذشتہ چند ماہ سے وقتاً فوقتاً ایرانی حدود سے داغے گئے گولے بلوچستان کے سرحدی اضلاع میں آ کرگرتے رہے ہیں۔

چار روز قبل ضلع چاغی میں ایران کی جانب سے ہونے والی فائرنگ سے ایک خاتون بھی زخمی ہوئی تھی۔

چاغی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ اس پر ایرانی حکام سے احتجاج کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں