مشرف کبھی دل پہ ہاتھ رکھ لیتے ہیں، کبھی بیڈ پہ لیٹ جاتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جنرل مشرف کے خلاف کارروائی حکومت کی ہدایت پر نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے حکم پر ہورہی ہے: خواجہ سعد رفیق

پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور سینٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا ہے کہ جنرل مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے یا نہ دینے کے بارے میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور ان کے بقول پیش رفت ہونے پر ہی اس پر بات کی جاسکتی ہے۔

راجہ ظفر الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستانی میڈیا میں آنے والی ان خبروں کی تصدیق یا تردید نہیں کی کہ وزیر اعظم نواز شریف نے اس معاملے پر اپنی جماعت کے رہنماؤں اور فوجی قیادت سے مشاورت کی ہے۔ البتہ انھوں نے یہ ضرور کہا کہ ’مشورے تو ہوتے ہیں نا جی۔ میاں صاحب کی یہ پریکٹس ہے کہ وہ کسی معاملے پر بغیر مشاورت کے فیصلہ نہیں کرتے۔‘

انہوں نے کہا کہ حکومت کا فیصلہ کب تک متوقع ہے، اس کی تاریخ دینے سے وہ قاصر ہیں۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے وکیل فروغ نسیم نے بھی کہا ہے کہ حکومت نے جنرل مشرف کے بیرون ملک سفر پر پابندی ختم کرنے کا درخواست پر اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

انھوں نے حکومت کے اس خدشے کو یکسر رد کر دیا ہے کہ ان کے موکل ملک سے فرار ہونا چاہتے ہیں۔

بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہ بات تو بالکل ہی درست نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اگر بھاگنا ہوتا تو وہ یہاں آتے ہی کیوں؟ مطلب یہ بات تو اسی سے واضح ہوجاتی ہے کہ وہ بھاگنا نہیں چاہ رہے۔‘

انہوں نے کہا کہ حکومت نے جنرل مشرف کے بیرون ملک سفر پر پابندی ختم کرنے کی درخواست پر اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے: ’ہم حکومت کے فیصلے کا انتظار کریں گے اور اگر نہیں ہوتا تو اس کا قانونی راستہ موجود ہے، پھر ہائی کورٹ بھی جایا جاسکتا ہے اور سپریم کورٹ بھی۔‘

اس سے پہلے وفاقی وزیرِ ریلوے اور حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے اہم رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا تھا کہ پرویز مشرف ملک سے بھاگنا چاہتے ہیں۔

اسلام آباد میں بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اگر پرویز مشرف کو جانے دیا جائے اور کل معزز عدالت انہیں طلب کرے تو انہیں پیش کرنا کس کی ذمہ داری ہوگی؟ وفاقی حکومت کی۔ تو ہم انہیں کہاں سے پکڑ کے لائیں گے۔ وہ تو پاکستان سے بھاگنا چاہتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption میں نواز شریف اہم معمامالات پر مشورے کرتے ہیں: راجہ ظفرالحق

حکومت کے اس خدشے پر کہ بیرون ملک جانے کے بعد عدالت کے طلب کرنے پر حکومت مشرف کو کیسے وطن واپس لائے گی؟ فروغ نسیم نے کہا کہ ’عدالت کے بلانے پر مشرف صاحب سو فیصد واپس آئیں گے اور اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو یہ کہ مقدمہ اتنا کمزور ہے کہ بھاگنے کی کیا ضرورت ہے۔ دوسری یہ کہ وہ اپنا نام کلیئر کرانا چاہتے ہیں۔‘

جنرل مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بیرون ملک سفر نہیں کرسکتے۔

ان کے خلاف سنگین بغاوت کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کہہ چکی ہے کہ وہ اپنے بیرون ملک سفر پر عائد پابندی ختم کروانے کے لیے حکومت سے رجوع کرے کیونکہ یہ معاملہ اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

پرویز مشرف کے وکیل سنیٹر فروغ نسیم نے مسٹر مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کے لیے پیر کو وفاقی وزارت داخلہ میں ایک تحریری درخواست بھی جمع کرائی تھی جس پر حکومت نے اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

وفاقی وزیر نے پریس کانفرنس کے دوران جنرل مشرف پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ’مشرف کبھی دل پہ ہاتھ رکھتے ہیں، کبھی بیڈ پر لیٹ جاتے ہیں، کبھی آئی سی یو میں گھس جاتے ہیں اور پھر ایک دم سٹینڈ اپ ہوتے ہیں اور عدالت پہنچ جاتے ہیں۔‘

جنرل مشرف نے عدالتی بیان میں کہا تھا کہ وہ غدار نہیں ہیں۔

مگر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پارلیمینٹ کو مکے دکھانے والا، چیف جسٹس افتخار چوہدری کے کراچی جانے پر کراچی کو خون میں نہلا دینے والا بدترین ڈکٹیٹر کس منہ سے کہتے ہیں کہ وہ غدار نہیں ہیں۔

’اور غداری کسے کہتے ہیں۔ غداری یہی ہے کہ آپ آئین کو روندو۔ آپ ملک کو توڑنے کی کوشش کرو اور آپ کو جو طاقت اور اختیار قوم نے سونپا ہوا ہو، آپ اس میں ایک بار نہیں بار بار بددیانتی کرو۔ تو بددیانتی کی کوئی سزا ملنی چاہیے یا نہیں ملنی چاہیے؟‘

انہوں نے کہا کہ ’پرویز مشرف کبھی جنرل تھے مگر اب وہ ایک سیاستدان ہیں۔ اب اتنا شوق تھا سیاسی جماعت بنانے کا تو اب اس کو بھگتو بھی تو سہی نا۔ باقی سیاستدان بھی تو بھگتتے ہیں۔‘

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ جنرل مشرف کے خلاف کارروائی حکومت کی ہدایت پر نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے حکم پر ہو رہی ہے جس کا انتقام سے کوئی تعلق نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے تین نومبر 2007 کو جنرل مشرف کے غیر آئینی اقدامات میں شریک دوسرے افراد کے خلاف بھی کارروائی کا عندیہ دیا۔

اسی بارے میں