خیبر پختونخوا: پی ٹی آئی کا فارورڈ بلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کابینہ میں شامل کیے جانے والے وزراء میں مشتاق غنی، قلندر خان لودھی، میاں جمشید الدین کاکاخیل، اکرام اللہ خان گنڈاپور اور ضیاء اللہ آفریدی شامل ہیں

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے 14 نارا‌‍‍‌ض اراکینِ صوبائی اسمبلی نے ’ہم خیال‘ کے نام سے ایک الگ گروپ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

گروپ کے فوکل پرسن اور نوشہرہ سے پی ٹی آئی کے رکنِ صوبائی اسمبلی قربان علی خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے ملک بچانے کا نعرہ لگایا تھا لیکن پارٹی میں موجود بعض مفاد پرست عناصر نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں کہ ملک سے پہلے پارٹی بچانے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ عوام نے پی ٹی آئی کو تبدیلی کے نام پر ووٹ دیا تھا لیکن صوبائی حکومت اب تک حقیقی تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہے جس سے کارکنوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔

قربان علی خان نے کہا کہ پارٹی پر بعض مفاد پرست عناصر نے قبضہ کر لیا ہے اور منشور سے ہٹ کر تمام معاملات چلائے جا رہے ہیں۔

انھوں نے صوبائی کابینہ میں حالیہ ردو بدل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’کابینہ میں بعض نا اہل وزراء کو شامل کیا گیا ہے جو ان کے بقول نہ صرف کرپشن اور بدعنوانی میں ملوث رہے ہیں بلکہ وہ وزرات چلانے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے تاہم انہوں نے کسی وزیر یا مشیر کا نام لینے سے انکار کیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے 14 اراکینِ اسمبلی ہم خیال گروپ میں شامل ہو چکے ہیں اور پارٹی کے دیگر ممبران قومی و صوبائی اسمبلی نے بھی ان سے رابطے کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم خیال گروپ میں خواتین اراکین اسمبلی بھی شامل ہیں۔

قربان خان کا کہنا تھا کہ ہم خیال گروپ کے ممبران بہت جلد پارٹی کے چیئر مین عمران خان سے ملاقات کریں اور اگر ان کے خدشات دور نہیں کیے گئے تو پھر وہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔

دریں اثناء خیبر پختونخوا کابینہ میں شامل کیے جانے والے تحریکِ انصاف کے پانچ نئے وزراء نے اپنے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا۔

منگل کو گورنر ہاؤس پشاور میں حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی جس میں گورنر خیبر پختونخوا انجنئیر شوکت اللہ نے نئے وزراء سے ان کے عہدوں کا حلف لیا۔

کابینہ میں شامل کیے جانے والے وزراء میں مشتاق غنی، قلندر خان لودھی، میاں جمشید الدین کاکاخیل، اکرام اللہ خان گنڈاپور اور ضیاء اللہ آفریدی شامل ہیں جن میں دو کا تعلق ہزارہ ڈویژن جب کہ دیگر کا ڈیرہ اسمعیل خان، نوشہرہ اور پشاور سے ہے۔

تقریب میں وزیراعلی پرویز خٹک اور دیگر اعلی و سول حکام نے شرکت کی۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے ہم خیال گروپ نے حلف برداری کا بائیکاٹ کیا اور تقریب میں احتجاجاً شرکت نہیں کی۔

اسی بارے میں