’مذاکرات اسلام آباد یا پشاور میں منعقد کروائے جائیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مقررین نے طالبان اور حکومت پر زور دیا کہ وہ ملک میں امن کی خاطر جنگ بندی کی مدت میں بغیر کسی شرط کے توسیع کریں تاکہ امن کے عمل کو مزید آگے بڑھایا جاسکے

جماعت اسلامی پاکستان کے نو منتخب امیر سراج الحق نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا اگلہ مرحلہ اسلام آباد یا پشاور میں منعقد کیا جائے تاکہ کمیٹیوں کے اراکین کو آپس میں رابطہ کرنے میں آسانی ہوں۔

جمعرات کو نشتر ہال پشاور میں جماعت اسلامی کے زیرِاہتمام منعقد امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ طالبان اور حکومتی مذاکراتی کمیٹیوں میں سمیع الحق جیسے ضعیف اور ادھیڑ عمر کے افراد شامل ہیں جو اب مزید پہاڑوں پر جا کر بات چیت نہیں کرسکتے۔

انھوں نے کہا ’ ضرورت اس امر کی ہے کہ اگلے مرحلہ پر یہ مذاکرات اب اسلام آباد میں منعقد ہونے چاہیے اور اگر اسلام آباد اس کا انعقاد نہیں کرسکتی تو خیبر پختونخوا کی مخلوط حکومت اس کا بہتر طورپر انتظام کرسکتی ہے۔‘

دہشت گردی کے جنگ سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں نو منتخب امیر کا کہنا تھا کہ پچھلی ایک دہائی کے دوران اس ملک میں اگر کسی کاروبار میں سب سے زیادہ ترقی ہوئی وہ تابوت بنانے کا کاروبار تھا۔

انھوں نے کہ اس جنگ کی وجہ سے شہر کےشہر اور گاؤں کے گاؤں اجڑ چکے ہیں لیکن اب ملک اس کا مزید متحمل نہیں ہوسکتا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما مولانا عطا الرحمان نے طالبان سے مذاکرات کےلیے بنائی گئی حکومتی کمیٹی پر تنقید کی اور کہا کہ اس کمیٹی میں ایسے غیر سیاسی افراد کو شامل کیا گیا ہے جنھیں سرے سے قبائلی روایات اور طور طریقوں کا پتہ ہی نہیں۔

انھوں نےکہا ’ عجیب بات یہ ہے کہ حکومتی کمیٹی نوکر شاہی کے افسران پر مشمتل ہے جب کہ طالبان کمیٹی میں سیاسی لوگوں کو لیا گیا ہے۔‘

مقررین نے طالبان اور حکومت پر زور دیا کہ وہ ملک میں امن کی خاطر جنگ بندی کی مدت میں بغیر کسی شرط کے توسیع کریں تاکہ امن کے عمل کو مزید آگے بڑھایا جاسکے۔

کانفرنس سے طالبان کمیٹی کے رکن اور جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق، جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن، پروفسیر ابراہیم خان، عوامی نیشنل پارٹی، قومی وطن پارٹی، تحریکِ انصاف، مسلم لیگ نون، مسلم لیگ قاف گروپ، جمعیت علماء اسلام نظریاتی، عوامی نیشنل پارٹی اور رائے حق پارٹی کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں پیپلز پارٹی کے کسی بھی رہنما نے شرکت نہیں کی۔

کانفرنس کے اختتام پر منتظمین کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس حکومت اور طالبان کے درمیان جاری بات چیت کے عمل کی حمایت اور مذاکرات کو ناکام بنانے والوں کی مزمت کی گئی۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں جاری دہشت گردی کے واقعات سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کےلیے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے جائیں۔

اسی بارے میں