’صحافیوں کو ہتھیار رکھنے کی اجازت کی تجویز‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کمیٹی نے حکومت کو تمام میڈیا ہاؤسز پر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کرنے اور اسکینرز لگانے کی بھی ہدایت کی ہے

پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ صحافیوں اور صحافتی کارکنوں کے لیے تمام صوبوں میں خصوصی ہاٹ لائنوں کے قیام پر اگلے ہفتے سے کام شروع ہو جائے گا۔

کمیٹی نے حکومت کو صحافیوں کو ذاتی تحفظ کے لیے ہلکے ہتھیار رکھنے کی اجازت دینے پر غور کرنے کا بھی کہا ہے۔

ہاٹ لائنوں پر صحافی اور میڈیا کے کارکن کسی بھی خطرے کی صورت میں فوری طور پر فون کر کے اطلاع دے سکیں گے۔

اطلاعات و نشریات کے متعلق پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو چیئرپرسن ماروی میمن کی صدارت میں ہوا۔

’طالبان اور فوج دونوں ہی صحافیوں کے لیے خطرہ‘

کمیٹی نے تمام صوبوں کے آئی جیز کو ہدایت کی کہ وہ خصوصی ہاٹ لائنوں کے قیام کے لیے فوری اقدامات کریں اور اس بارے میں کمیٹی کو آگاہ کریں۔

کمیٹی نے حکومت کو تمام میڈیا ہاؤسز پر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کرنے اور اسکینرز لگانے کی بھی ہدایت کی ہے۔

وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے شرکا کو بتایا کہ حکومت میڈیا کے اداروں اور صحافیوں اور صحافتی کارکنوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں اخباروں کے مالکان کی تنظیم اے پی این ایس اور پریس کلبوں سے بھی مشاورت کی گئی ہے۔

قائمہ کمیٹی نے لاہور میں صحافی اور ادیب رضا رومی پر ہونے والے حملے کی سخت مذمت کی اور ہدایت کے باوجود پنجاب پولیس کے کسی افسر کے شرکت نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔

کمیٹی نے آئی جی پولیس پنجاب کو رضا رومی پر ہونے والے حملے کی تحقیقات میں اب تک ہونے والی پیش رفت کی خفیہ رپورٹ 24 گھنٹوں میں کمیٹی کو بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔

اجلاس کے بعد جاری کی جانے والی کمیٹی کی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے ہلاک اور زخمی ہونے والے صحافیوں کے ورثا کو تمام صوبوں میں معاوضے کی یکساں ادائیگی کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا ہے اور صحافیوں کے قتل کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک سپیشل پراسیکیوٹر مقرر کیے جائیں گے۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ میڈیا کے اداروں اور صحافیوں کے خلاف شدت پسندوں کے دھمکی آمیز بیانات اور فہرستوں کو حکومت سنجیدگی سے لے کیونکہ کمیٹی کے بقول دہشت گرد ان فہرستوں کے مطابق کارروائیاں کررہے ہیں اور ان فہرستوں میں جن صحافیوں اور صحافتی اداروں کے نام ہیں، انہیں دھمکیاں بھی ملی ہیں۔

کمیٹی نے کہا ہے کہ صحافیوں اور صحافتی اداروں پر حملوں کے تمام واقعات کی تحقیقات اگلے تین ماہ میں مکمل کی جائیں۔ میڈیا پر ہونے والے ہر حملے کی جامع تحقیقات کی جائیں اور ماہانہ بنیادوں پر اس کی رپورٹ پارلیمان میں پیش کی جائے۔ کمیٹی نے سپیکر کو یہ سفارش بھی کی ہے کہ ان واقعات کی تحقیقات کی تفصیلات متاثرہ خاندانوں کی اجازت سے منظر عام پر لائی جائیں، ملوث گروہوں، ان کے سرغنوں اور جنگجوؤں کے نام بھی سامنے لائے جائیں اور ایسے کسی گروہ کا نام چھپایا نہ جائے۔

کمیٹی نے اپنی سفارشات میں ریاست اور میڈیا کے مالکان پر زور دیا ہے کہ وہ ہلاک اور زخمی ہونے والے صحافیوں کے ورثا کی مالی مدد، علاج و معالجے کے اخراجات اور ان کے بچوں کی تعلیم کی ذمہ داری لینے اور اس کے لیے واضح نظام کا تعین کرنے بھی زور دیا ہے۔

اجلاس میں شریک تجزیہ کار اور ٹی وی اینکرپرسن ڈاکٹر معید پیرزادہ نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے موجودہ حالات میں صحافیوں اور صحافتی کارکنوں کے لیے ہاٹ لائنوں کا قیام انہیں لاحق خطروں کا موثر حل نہیں ہے۔

’پاکستان میں اتنے زیادہ حملے ہو رہے ہیں، اتنی زیادہ دہشت گردی ہے اور اتنی زیادہ پولیس اہم شخصیات کے ذاتی تحفظ پر مامور ہیں۔ کئی وزرا اور اہم شخصیات کی حفاظت پر سو سو اہلکار تعینات ہیں تو اگر میڈیا کے لوگ بھی اس میں شامل ہو جائیں گے تو یہ تو نظام ہی نہیں چل پائے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے پولیس کے مجموعی حفاظتی نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں