’مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزارت داخلہ نے مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے سے متعلق درخواست مسترد کر دی تھی

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے لیے ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے۔

یہ درخواست پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے رکن شاہ جہاں ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔

اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سابق صدر کی والدہ بیرون ملک ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور حکومت کی طرف سے اُن کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نہ نکالنے کا فیصلہ اور اُنھیں والدہ کی عیادت کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت نہ دینا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

اس درخواست میں وفاق اور سیکریٹری داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے۔ اس درخواست کے قابلِ سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

پرویز مشرف کی وکلا ٹیم میں شامل فیصل چوہدری کا کہنا ہے کہ اس درخواست سے سابق صدر کی وکلا ٹیم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا وہ کل جمعے کو حکومتی فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں درخواست دائر کریں گے تاہم ابھی تک اس کا فیصلہ نہیں ہوا کہ آیا یہ درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی جائے گی یا پھر سپریم کورٹ میں۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز بدھ کو سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ پرویز مشرف کے خلاف غداری جیسا سنگین مقدمہ ہے اس لیے اُنھیں بیرون ملک جانے کی اجازت نہ دی جائے ۔

اس سے پہلے بدھ کو ہی وزارت داخلہ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی جانب سے اُن کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے سے متعلق درخواست مسترد کر دی تھی۔

سابق فوجی صدر کی جانب سے 31 مارچ کو خصوصی عدالت کی طرف سے آئین شکنی کے مقدمے میں اُن پر فرد جُرم عائد کیے جانے کے بعد اُن کے وکلا نے وزارت داخلہ کو پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے وزارت داخلہ کو درخواست دی تھی۔

اسی بارے میں