طالبان قیدی نہیں معمولی ملزمان کو چھوڑا ہے: حکومت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption طالبان نے ابتدائی طور پر تین سے چار سو قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے: مولانا سمیع الحق

پاکستان کے قبائلی علاقے میں جمعرات کو محسود قبائل کے 16 قیدیوں کو رہا کیے جانے کے بارے میں حکومت کی طرف سے متضاد بیانات جاری کیے گئے ہیں۔ ایک طرف تو وزیر اعظم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رہائی پانے والے معمولی جرائم میں ملوث تھے جبکہ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ ’غیر عسکری‘ طالبان تھے۔

وزیر اعظم کے ترجمان نے برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز کی خبر کی وضاحت کرتے ہوئے ان اطلاعات کی تردید کی کہ حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کو آ گے بڑھانے کے لیے وزیر اعظم کے حکم پر طالبان قیدیوں کو رہا کیا ہے۔

وزیر اعظم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ صرف معمولی جرائم میں ملوث 16 افراد کو رہا کیا گیا ہے۔

دوسری طرف وزارتِ داخلہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ رہا کیے جانے والے ’غیر عسکری‘ طالبان ہیں۔

قبل ازیں روئٹرز نیوز ایجنسی نے اطلاع دی تھی کہ پولیٹکل انتظامیہ طالبان کی طرف سے جن آٹھ سو قیدیوں کو رہا کیے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ان میں 16 افراد کو وزیر اعظم کے حکم پر رہا کر دیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے یہ خبر قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پولیٹکل ایجنٹ اسلام زیب کے حوالے سے دی تھی جن کا کہنا تھا کہ 16 غیر عسکری طالبان کو رہا کیا گیا ہے۔

’طالبان کا تین سے چار سو قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ‘

مقامی میڈیا میں اس خبر کے نشر ہونے کے چند منٹ بعد ہی وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی خبر بے بنیاد اور درست نہیں ہے۔

بیان کے مطابق طالبان قیدیوں کو رہا گیا ہے اور نہ ہی ایسی کوئی ہدایت دی گئی ہے۔

دوسری جانب جنوبی وزیرستان کے اسسٹنٹ پولٹکل ایجنٹ نواب صافی نے بھی بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان خبروں کی تردید کی۔

انھوں نے بتایا کہ دس سے 12 دن پہلے فوج نے جنوبی وزیرستان کے مقام وانہ میں دس سے 15 افراد کو جنوبی وزیرستان کی پولٹیکل انتظامیہ کے حوالے کیا تھا اور انہی لوگوں کو ضمانت پر رہا کیا تھا۔

’ان سب کا تعلق جنوبی وزیرستان سے ہے اور محسود قبیلے سے ہے اور ان کا قصور یہ تھا کہ وہ حساس علاقوں میں پہنچ گئے تھے۔‘

ایک دن پہلے جمعرات کو ہی طالبان کی جانب سے ایک ماہ کے لیے جنگ بندی کی معیاد پوری ہو گئی ہے اور فی الحال اس میں توسیع کرنے یا نہ کرنے سے متعلق کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ جنوبی وزیرستان کے پولیٹیکل ایجنٹ اسلام زیب نے ایسی کوئی بات نہیں کی تھی اور تحقیقات شروع ہو گئی ہیں کہ ایسی غلط خبروں کا ذریعہ کون تھا۔

چند روز پہلےدہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت سے مذاکرات کرنے والی طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا تھا کہ طالبان نے ابتدائی طور پر تین سے چار سو قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی بارے میں