طالبان کی طرف سے جنگ بندی میں دس اپریل تک توسیع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ دس اپریل کو طالبان شوریٰ کا دوبارہ اجلاس بلایا جائے گا جس میں آئندہ کا لائحۂ عمل طے کیا جائے گا

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے حکومتِ پاکستان کے ساتھ جنگ بندی میں مزید دس دن کی توسیع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کی طرف سے جمعے کو ذرائع ابلاغ کو جاری کیے گئے ایک بیان اور بعد میں صحافیوں سے بات چیت میں کہا ہے کہ طالبان شوریٰ کے فیصلے کےمطابق جنگ بندی میں مزید دس اپریل تک کی توسیع کردی گئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ دس اپریل کو طالبان شوریٰ کا دوبارہ اجلاس بلایا جائے گا جس میں آئندہ کا لائحۂ عمل طے کیا جائے گا۔ ترجمان نے کہا کہ وہ حکومت کے اقدامات سے پوری طرح مطمئن نہیں کیونکہ اب بھی جیلوں میں ان کے قیدیوں پر تشدد کیا جارہا ہے اور ان کی لاشیں پھینکی جا رہی ہیں۔

حکومت کی جانب سے رہا کیے جانے والے قیدیوں کے بارے میں ترجمان نے کہا تھا کہ وہ فی الحال اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتے کہ رہا ہونے والے افراد طالبان ہیں یا عام لوگ۔

انہوں نے کہا کہ ان کی طرف سے حکومت کو 800 قیدیوں کی فہرست دی گئی تھی تاہم رہا ہونے والے افراد کے نام لسٹ میں تلاش کیے جارہے ہیں اور ایک دو دنوں میں واضح ہوجائے گا کہ یہ کون لوگ ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے میں جمعرات کو محسود قبائل کے 16 قیدیوں کو رہا کیے جانے کے بارے میں حکومت کی طرف سے متضاد بیانات جاری کیے گئے تھے۔ ایک طرف تو وزیر اعظم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رہائی پانے والے معمولی جرائم میں ملوث تھے جبکہ وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ وہ ’غیر عسکری‘ طالبان تھے۔

وزیر اعظم کے ترجمان نے برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز کی خبر کی وضاحت کرتے ہوئے ان اطلاعات کی تردید کی تھی کہ حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کو آ گے بڑھانے کے لیے وزیرِ اعظم کے حکم پر طالبان قیدیوں کو رہا کیا۔

وزیر اعظم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ صرف معمولی جرائم میں ملوث 16 افراد کو رہا کیا گیا۔

دوسری طرف وزارتِ داخلہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ رہا کیے جانے والے ’غیر عسکری‘ طالبان تھے۔

قبل ازیں روئٹرز نیوز ایجنسی نے اطلاع دی تھی کہ پولیٹکل انتظامیہ طالبان کی طرف سے جن آٹھ سو قیدیوں کو رہا کیے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ان میں 16 افراد کو وزیر اعظم کے حکم پر رہا کر دیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے یہ خبر قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پولیٹکل ایجنٹ اسلام زیب کے حوالے سے دی تھی جن کا کہنا تھا کہ 16 غیر عسکری طالبان کو رہا کیا گیا ہے۔

چند روز پہلےدہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت سے مذاکرات کرنے والی طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا تھا کہ طالبان نے ابتدائی طور پر تین سے چار سو قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی بارے میں