حکومت مزید 13 طالبان رہا کرنے پر رضامند

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طالبان کےساتھ مذاکرات شروع ہونے کے بعد ملک میں تشدد میں کمی آئی ہے

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ طالبان سے رابطوں کے بعد ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات شروع ہونے سے قبل مزید تیرہ غیر عسکری قیدی رہا کیے جائیں گے۔ پاکستان نے ایک ہفتے قبل انیس ’غیرعسکری‘ قیدی رہا کر چکے ہیں۔اس طرح مذاکرات کا اگلا دور شروع ہونے سے پہلے رہائی پانے والے طالبان کی تعداد 32ہو جائے گی۔

یہ بات انھوں نےسنیچر کی شام اسلام آباد میں پنجاب ہاؤس میں حکومت اور طالبان کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کرنے کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ہے۔

پیپلز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے حکومت پر تنقید کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ جولوگ مذاکرات پر تنقید کر رہے ہیں انھیں گذشتہ کئی ہفتوں پر غور کرنا چاہیے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ مذاکراتی عمل شروع ہونے کے باعث دھماکوں اوردہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آنے کے نتیجے میں بہت سے قمیتی جانیں بچی ہیں۔

طالبان کمیٹی سے بات چیت کی تفصیلات بتاتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ مذاکرات کے اگلے مرحلے میں طالبان کی جانب سے بھی واضع نکات سامنے آجائیں۔ بقول ان کے مذاکرات کا باقاعدہ آغاز آئندہ ہفتے سے ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئےحکومت چاہتی ہے کہ کسی بھی صورت میں ملک میں امن قائم ہوجائےجس کے لیے طالبان سے قیدیوں کی رہائی اورتشدد کی کاروائیوں سے اجتناب شامل ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیرداخلہ نے کہا کہ حکومت نے طالبان سے براہ راست مذاکرات کے لیے ایک ایسی جگہ کا انتخاب کرلیا ہے جہاں طالبان مذاکراتی ٹیم کو آنے جانے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔

اس سے قبل طالبان کمیٹی کے سربراہ سمیع الحق نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایاکہ طالبان کی جانب سے دس اپریل تک جنگ بندی میں توسیع پر حکومت نے اطمینان کا اظہار کیاہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت اور طالبان کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کاآغاز آئندہ دوتین دن میں شروع ہوگا۔جس کے لیے وقت اور جگہ کا انتخاب کیاجا رہا ہے۔ مذاکرات میں دونوں اطراف سے آنے والے مطالبات اور مسائل پر غور کیا جائےگا۔

سمیع الحق نے حکومت اور طالبان سے درخواست کی کہ وہ مستقل بنیادوں پرجنگ بندی کا اعلان کرے تاکہ جاری مذاکراتی عمل پر وقت کا دباؤ نہ ہو۔

اسی بارے میں