کرم ایجنسی میں ’امن‘، ہزاروں خاندانوں کی گھروں کو واپسی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فوج نے علاقے میں امن بحال کر دیا ہے لیکن تمام مکانات کھنڈر بن چکے ہیں: رہائشی

پاکستان کے قبائلی علاقے وسطی کرم ایجنسی سے فوجی آپریشن کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی واپسی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے اور پہلے مرحلے میں چار ہزار خاندان اپنے علاقے پتاؤ علی شیزئی جا رہے ہیں۔ ان متاثرہ افراد کوکرم ایجنسی کے صدر مقام صدہ کے قریب نیو درانی کیمپ سے روانہ کیا جا رہا ہے ۔

فاٹا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے ایجنسی رابطہ کار مجاہد علی طوری کے مطابق پہلے مرحلے میں پتاؤ علی شیرزئی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے خاندان واپس جا رہے ہیں۔ پتاؤ علی شیر زئی کے پچاس دیہاتوں سے نقل مکانی کرنے والے کوئی چار ہزار سے زیادہ خاندانوں کی واپسی کا سلسلہ دس اپریل تک مکمل کر دیا جائے گا ۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان چار ہزار خاندانوں میں سے سات سو خاندان متاثرین کے کیمپ اور تینتیس سو سے زیادہ خاندان مختلف علاقوں میں اپنے طور پر رہائش پزیر تھے

مجاہد علی طوری نے بتایا کہ متاثرین کو ٹرانسپورٹ اور چھ ماہ کا راشن فراہم کیا جا رہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال کے آحر تک کرم ایجنسی کے تمام متاثرین کو اپنے علاقوں کو بھیج دیا جائے گا۔

یہ متاثرین سال دوہزار دس اور دو ہزار گیارہ میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے تھے ۔

کرم ایجنسی کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کو سلسلہ سال دو ہزار دس میں شروع کیاگیا تھا اور ان متعلقہ علاقوں سے لوگ نقل مکانی کرتے رہے۔ موسیٰ زئی اور دیگر علاقوں کے متاثرہ افراد پہلے واپس جا چکے ہیں۔ سوری علی شیزئی کے متاثرہ افراد کی واپسی کا عمل تاحال شروع نہیں ہو سکا ہے ۔ صدہ سے مقامی صحافی اقبال حسین نے بتایا کہ لوگ واپسی جانے پر خوش ہیں ۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے تمام قبائلی علاقے متاثر ہوئے ہیں ۔ خیبر ایجنسی کے متاثرہ افراد اب بھی ادھر نوشہرہ کے قریب جلوزئی کمیپ میں موجود ہیں جبکہ جنوبی وزیرستان کے متاثرہ افراد ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر علاقوں میں اپنے طور پر پناہ گزینوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اسی بارے میں