کارکنوں کے’ماورائے عدالت قتل‘ پر ایم کیو ایم کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی میں رینجرز کی سربراہی میں مجرمانہ عناصر کے خلاف آپریشن جاری ہے

کراچی میں کارکنوں کی مبینہ جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ نے پیر کو سندھ اسمبلی میں احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص پولیس کو مطلوب ہے تو اس پر سو مقدمات دائر کیے جائیں لیکن اس طرح اٹھا کر قتل کرنے سے حالات میں بہتری ممکن نہیں آ سکتی۔

سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فیصل سبزواری نے اپنے خطاب میں کہا کہ نظام کو مضبوط کیا جائے، اس سے پہلے کہ لوگوں کا اس رہے سہے کھوکھلے نظام سے بھی اعتماد اٹھ جائے۔

فیصل سبزواری نے حکومت سے سوال کیا کہ کیا یہ واقعات سامنے نہیں آ رہے کہ اغوا برائے تاوان میں پولیس کے لوگ ملوث ہیں، یا پولیس کے لوگ نام بدل بدل کر لوگوں کو دہشت زدہ کر رہے ہیں؟

ادھر صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ اگر ایم کیو ایم کے کارکن لاپتہ ہیں تو ان کی فہرست حکومت کو پیش کی جائے، پولیس مقابلے میں ہلاکتوں کو ماورائے عدالت اقدام قرار نہ دیا جائے۔

قائدِ حزبِ اختلاف کا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’بطور ادارہ ہم کہتے ہیں کہ یہ ادارہ ہمارا ہے، اس کو ہم نے مضبوط کرنا ہے لیکن یہ اختیار دینا کہ کسی کو بھی اٹھائیں، چاہے اس پر مقدمات تھے یا نہیں، اس کو گولی مار دیں؟ سرکار سے استدعا ہے کہ ایسا نہ کیا جائے۔‘

فیصل سبزواری نے کہا کہ وہ مقتول یاور عباس زیدی کے جنازے کے موقع پر لواحقین کے الفاظ دہرانا چاہیں گے۔ ان کے مطابق لواحقین نے ان سے مخاطب ہو کر کہا کہ آج ہمیں احساس ہو رہا ہے کہ مشرقی پاکستان میں کیا ہوا ہوگا۔ قائدِ حزبِ اختلاف نے کہا کہ لوگوں کو دیوار سے نہ لگایا جائے۔

فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ وہ احترام سے دردمندی سے، رقت کے ساتھ حکومت سے گزارش کر رہے ہیں کل یہ فریادیں اگر چیخیں بن گئیں اور اگر یہ بیانات سڑکوں پر آگئے تو پھر کس کی ذمے داری بنے گی؟

اس سب کے جواب میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی میں جرائم میں کمی ہوئی ہے، پھر چاہے ٹارگٹ کلنگز ہوں یا ڈکیتیاں ہوں، اس کا سہرا وزیرِ اعلیٰ، پولیس اور رینجرز کو جاتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ پچھلے دور میں پولیس میں کچھ غلط بھرتیاں ہوئی ہیں جس کی نشاندہی بھی کی جا رہی ہے اور کارروائی بھی ہو رہی ہے:

’میں اپنی تقریر مفاہمت کے دائرے میں رکھنا چاہتا ہوں اور یہ بتانا چاہتے ہیں کہ حکومت اقدامات کر رہی ہے۔‘

یاد رہے کہ سابق حکومت میں دونوں جماعتیں اتحادی رہی ہیں اور اس وقت بھی ایم کیو ایم کی حکومتی بینچوں پر واپسی کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کی سندھ حکومت میں شمولیت سندھ کے مفاد میں ہے، جبکہ ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کہہ چکے ہیں وہ حکومت میں شمولیت کی بجائے بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں