یونائٹڈ بلوچ آرمی کا جعفر ایکسپریس پر حملہ کرنے کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بلوچستان میں ماضی میں علیحدگی پسند ریل گاڑیوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر سّبی کے ریلوے سٹیشن پر ٹرین میں ہونے والے دھماکے میں 14 افراد ہلاک اور 49 زخمی ہوگئے ہیں جس کی ذمہ داری یونائٹڈ بلوچ آرمی نامی تنظیم نے قبول کر لی ہے۔

ڈپٹی کمشنر سبّی سہیل الرحمان نے بی بی سی اردو کے نمائندے محمد کاظم کو بتایا کہ دھماکہ بوگی نمبر 9 میں ہوا اور اس کے بعد لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

کوئٹہ ریلوے کنٹرول نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی صبح نو بجے جعفر ایکسپریس کوئٹہ سے راولپنڈی کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ ریلوے کنٹرول نے سات افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کر دی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دوپہر ایک بج کر دس منٹ پر ٹرین کوئٹہ سے تقریباً 150 کلومیٹر دور سبّی کے مقام پر پہنچی تو ریلوے سٹیشن پر وقتی قیام کے دوران اس کی ایک بوگی میں دھماکہ ہو گیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے میں جعفر ایکسپریس کی تین بوگیوں کو نقصان پہنچا۔

دوسری جانب کالعدم تنظیم یونائٹڈ بلوچ آرمی کے ترجمان مرید بلوچ نے بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی پیر کو فرنٹیئر کور کی طرف سے تربت اور خضدار میں ہونے والی کارروائیوں کا ردِعمل ہے۔

انھوں نے پاکستانی عوام کو متنبہ کیا کہ فی الحال ٹرین کے سفر سے گریز کریں کیونکہ ایف سی کی جانب سے ہونے والی کارروائیوں کے نتیجے میں وہ دوبارہ ٹرینوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ بلوچستان کے ضلع قلات میں فرنٹیئر کور نے پیر کو سرچ آپریشن کے دوران بلوچ عسکریت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے درجنوں عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

کوئٹہ میں فرنٹیئر کور بلوچستان کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق یہ کارروائی ضلع قلات کے پہاڑی علاقے پاردو میں کی گئی۔ بیان میں کہاگیا ہے کہ ’آپریشن کے دوران شرپسندوں کی جانب سے خودکار آتشی اسلحے، راکٹ لانچرز اور دستی بموں کا متواتر استعمال کیاجاتا رہا جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 30 سے 40 شرپسند ہلاک ہوئے۔‘

ترجمان کے مطابق اس کارروائی کے دوران ایف سی کے 10جوان زخمی ہوئے۔

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے وزیرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق کے حوالے سے بتایا ہے کہ دھماکے کے وقت بوگی میں 80 کے قریب مسافر سوار تھے اور حادثے کی تحقیقات جاری ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس کی بوگیوں میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔

بلوچستان میں ماضی میں علیحدگی پسند ریل گاڑیوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں تاہم کسی گروپ نے تاحال اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیرِ ریلوے نے بتایا کہ یہ کارروائی گذشتہ روز بلوچستان میں سکیورٹی اداروں کے آپریشن کا ردعمل بھی ہو سکتی ہے۔

پیر کو بلوچستان کے ضلع قلات میں فرنٹیئر کور نے سرچ آپریشن کے دوران بلوچ عسکریت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 30 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

جعفر ایکسپریس کو بھی ماضی میں نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ گذشتہ سال نومبر میں بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں پٹری پر دھماکے کے بعد جعفر ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اترنے کے نتیجے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس کے علاوہ اگست 2013 میں اسی ٹرین کو بولان کے علاقے میں راکٹ سے نشانہ بنایا گیا تھا جس سے ٹرین کا انجن تباہ ہوگیا تھا۔ انجن تباہ ہونے کے بعد رکی ہوئی ریل گاڑی پر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ بھی کی گئی تھی جس سے دو مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔

اس سے قبل جنوری 2013 میں ٹرین پر سبّی اور مچھ کے درمیان پنیر کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی تھی جس سے ایک سکیورٹی اہلکار سمیت تین افراد ہلاک اور انیس زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں