سیاسی گرما گرمی، وزرا کے گرم سرد بیانات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خواجہ آصف نے کہا کہ پارلیمنٹ بالادست ادارہ ہے اور یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اس کی تحقیر نہ کریں

پاکستان کے وزیردفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ ہر ادارے کو اپنے دفاع کا حق ہے اور پارلیمنٹ کو بھی اسے اپنانا چاہیے جبکہ وزیراطلاعات پرویز رشید کہتے ہیں کہ ملک کے عوام کو پارلیمنٹ پر مکمل اعتماد ہے۔

منگل کے روز بھی پاکستان کے ایوانِ زیریں میں اجلاس کے موقعے پر وزیرِ دفاع اور وزیرِ اطلاعات دونوں نے بیانات دیے۔ جن میں ایک ہی اہم نکتہ تھا اور وہ پارلیمنٹ کی بالادستی سے متعلق تھا۔

وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ تاثر غیر جمہوری قوتوں کی جانب سے آتا ہے کہ پاکستان کی عوام کو پارلیمنٹ پر اعتماد نہیں۔

وزیردفاع خواجہ آصف نے بھی انھی کی بات کو آگے بڑھایا اور کہا کہ پاکستانی عوام نے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور وہ جمہوریت کو مستحکم کرنے کے متمنی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ بالادست ادارہ ہے اور یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اس کی تحقیر نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہر ادارے کو اپنے دفاع کا حق ہے اور پارلیمنٹ کو بھی اسے اپنانا چاہیے۔‘

وزیردفاع کے جاری بیان میں یہ وضاحت نظر نہیں آئی کہ انھوں نے یہ بیان کیوں دیا، یعنی اس بیان کا پس منظر کیا ہے اور نہ ہی وزیرِ اطلاعات نے کھل کر جمہوریت محالف ’غیر جمہوری قوتوں‘ کا نام لیا۔

یاد رہے کہ پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے گذشتہ روز ایک بیان میں فوج کے وقار کے تحفظ کی بات کی تھی جسے ملک کے ذرائع ابلاغ مختلف معنی پہنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پیر کو جاری ہونے والے بیان میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا تھا کہ پاکستانی فوج ملک کے تمام اداروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے لیکن پاکستان فوج کے وقار کا ’ہرحال میں‘ دفاع کرے گی۔

چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ ’حالیہ دنوں میں بعض عناصر کی طرف سے پاکستانی فوج پر غیر ضروری تنقید‘ کی گئی ہے اور افسروں اور جوانوں کے تحفظات کے بارے میں کہا کہ فوج اپنے ’وقار کا ہرحال میں تحفظ کرے گی۔‘

چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ ملک اندرونی اور بیرونی مشکلات سے دوچار ہے اور پاک فوج تمام اداروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

اہم بات یہ بھی ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف نے یہ بیان غازی بیس تربیلا میں پاکستان فوج کے سپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کے ہیڈکوارٹر کےدورے کے دوران دیا تھا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں طالبان نے 2007 میں ایک بڑا حملہ کیا تھا جس میں متعدد کمانڈو ہلاک ہوئے تھے۔

حالیہ دنوں میں فوج پر ہونے والی تنقید کی بات کی جائے تو وہ تنقید سب سے زیادہ سابق فوجی چیف پرویز مشرف پر غداری کے مقدمے میں فرد جرم عائد ہونے کے موقع پر نظر آئی۔

پاکستان کے سابقہ جرنیلوں کی جانب سے یہ بیانات سامنے آتے رہے ہیں کہ کیا احتساب صرف جرنیلوں کا ہوگا اور مشرف کا ساتھ دینے والے اداروں کا نہیں؟

اس کے علاوہ لاپتہ افراد کا مقدمہ ہے جس کے دوران عدالتوں کی جانب سے فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے کردار پر ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے۔گذشتہ ماہ ہی پاکستان کی سپریم کورٹ میں 35 لاپتہ افراد کے مقدمے میں مالا کنڈ تھانے میں حراستی مرکز کے نائب صوبیدار امان اللہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی ۔

اس ایف آئی آر میں شکایت کنندہ کے طور پر وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا نام درج ہے۔