تحفظ پاکستان آرڈینس: دہشت گردی کے خلاف مؤثر ہتھیار یا ریاستی جبر؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان تحریکِ انصاف نے فیصلہ کیاہے کہ دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر اس آرڈننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا

پاکستان کی حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نون نے قومی اسمبلی میں اکثریتی جماعت ہونے کی وجہ سے تحفظِ پاکستان آرڈننس کو بلڈوز کرا کے منظور تو کروا لیا لیکن اسے قانون کی شکل بننے میں ابھی کئی مراحل پار کرنے ہیں۔

حزبِ مخالف کی جماعتوں کی جانب سے ایوان میں احتجاج اور واک آؤٹ محض علامتی نہیں تھا، پاکستان تحریکِ انصاف نے فیصلہ کیاہے کہ دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر اس آرڈننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔

دوسرا یہ کہ اس آرڈننس کی منظوری ابھی سینٹ میں ہونی ہے، جہاں پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کی جانب سے مذمت متوقع ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے سیکرٹری اطلاعات سینٹر مشاہد اللہ خان نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف حزبِ اختلاف کی جماعتیں اور انسانی حقوق کے کارکن کہتے ہیں کہ شدت پسندی کو روکا جائے اور اس کے لیے قوانین بنائے جائیں۔ ’جب قوانین بنتے ہیں، تو پھر اس پر تنقید ہوتی ہے۔‘

اعتراضات

اس آرڈننس کے خلاف حزبِ مخالف کی جماعتوں کے دو اعتراضات ہیں۔ ایک یہ کہ پاکستان مسلم لیگ نون نے دیگر پارٹیوں کے مشوروں اور تحفظات کے باوجود اسے ایوانِ زیریں میں منظور کروا لیا۔

پاکستان تحریکِ انصاف کی رکنِ پارلیمان شیریں مزاری نے پاکستان مسلم لیگ نون کے اس عمل کو ’غیر جمہوری‘ قرار دیا ہے۔

چاہے دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں ہو، یا بائیں بازو کی، سب کہتی ہیں کہ یہ ایک ’کالا قانون‘ ہے جو انسانی حقوق کی پامالی کرتا ہے اور ماورائے آئین ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رکنِ پارلیمان فاروق ستار نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کے نفاذ سے دہشت گردی میں کمی نہیں ہو گی، بلکہ ریاستی جبر میں اضافہ ہو گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ یہ قانون ان لوگوں کے لیے ہے جو پاکستان کے خلاف جنگ مسلط کر رہے ہیں ۔ ’لیکن طالبان، جو پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے، پاکستان کی ریاست کو نہیں مانتے، ان کو اس کے تحت پکڑا نہیں گیا، بلکہ مزید قیدیوں کو رہا کرنے کی بات ہو رہی ہے۔‘

ان کا دعوی ہے کہ آرڈننس کی شکل میں اسے سیاسی مقاسد کے لیے استعمال کیا گیا ہے اور کراچی میں جاری آپریشن کے دوران اس قانون کے تحت ایم کیو ایم کے 45 کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا۔

فاروق ستّار کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس قانون میں ایک اور قابلِ اعتراض شق یہ ہے کہ سکیورٹی ایجنسیوں کو مشکوک شخص کو ’دیکھتے ہی گولی مارنے‘ کے اختیارت بھی دیے گیے ہیں۔

تحفظِ پاکستان آرڈننس کے تحت ملزم کو 90 روز کے لیے بغیر الزام کے حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

فاروق ستار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بل میں ایم کیو ایم نے قائمہ کمیٹی میں اپنے اختلافی نوٹ میں ترمیم تجویز کی کہ اگر 90 روز کے لیے حراست میں رکھنا ہے تو کم سے کم ایک غیر جانب دار میڈکل بورڈ قائم کیا جائے جو اس بات تعین کرے کہ آیا ملزم پر تشدد تو نہیں ہو رہا۔ تاہم، اس تجویز کو منظور شدہ بل میں شامل نہیں کیا گیا۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے وکلا کو بھی اس قانون سے اختلاف ہے۔

وکیل شہزاد اکبر کا موقف ہے کہ جن بنیادی حقوق کی آئین میں ضمانت ہے، یہ آرڈننس ان کی نفی کرتا ہے۔ ’ہر شہری کو قانونی تحفظ حاصل ہے کہ اسے بغیر وارنٹ کے گرفتار نہیں کیا جائے گا اور اگر ایسا کیا گیا تو مختصر مدت کے اندر اندر ایک غیر جانب دار فورم کے سامنے پیش کیا جائے۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس کے تحت ملزم سے تشدد کے ذریعے لیے گئے بیانات بھی خصوصی عدالتوں میں تسلیم کیے جا سکتے ہیں۔

’موجودہ قوانین کے تحت اگر کوئی بھی بیان پولیس کے سامنے دیا جاتا ہے تو وہ آپ کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتا جب تک آپ بغیر جبر کے ایک غیر جانب دار جج کے سامنے وہی بیان خود سے نہ دیں۔‘

شہزاد اکبر کے بقول تحفظِ پاکستان قانون میں تبدیلی یہ ہے کہ تشدد کے ذریعے دیے گیے بیانات ثبوت کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں اور سزا بھی ہو سکتی ہے۔

’ہمارا یہ ماننا ہے کہ اس قانون کے نفاذ سے سکیورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کو ایسے اختیارات دیے گیے ہیں جن کا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔‘

دوسری جانب انسداد دہشت گردی کے مقدمات کے وکیل الیاس صدیقی کہتے ہیں کہ اگر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی ’نیت صاف ہو‘ تو تحفظِ پاکستان آرڈننس کافی موثر ثابت ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اصول متعین کردیے جائیں کہ یہ قانون کن حالات میں کن لوگوں پر استعمال ہوگا تو یہ بہت ہی اچھا قانون ہے۔

اس قانون کے موثر ہونے کے بارے میں بات کرتے ہوئے الیاس صدیقی نے کہا کہ ’دہشت گردی کے اکثر مقدمات میں ملزم کا سُراغ لگانا مشکل ہوتا ہے کیونکہ خودکُش حملہ آور ہلاک ہوجاتا ہے جبکہ دیگر ملزمان کے خلاف شہادت لانا مشکل ہوجاتا ہے اور انہیں گرفتار کرنے میں چھ چھ مہینے اور سال لگ جاتے ہیں اور کوئی عینی شاہد نہیں ملتا اور مقدمہ ناکام ہوجاتا ہے۔‘

خیال رہے کہ صدرِ پاکستان نے گذشتہ برس اکتوبر میں تحفظِ پاکستان آرڈننس کا اطلاق کیا تھا، جس کے بعد جنوری میں اس کی مدت میں 120 روز کے لیے توسیع کر دی گئی تھی۔

اسی بارے میں