سندھ میں جسقم کی اپیل پر ہڑتال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جئے سندھ متحدہ محاذ کا موقف ہے کہ ریاستی ادارے اس قانون کی آڑ میں قوم پرست کارکنوں کو نشانہ بنائیں گے اس لیے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے

پاکستان کے صوبے سندھ کے کئی شہروں میں بدھ کو قوم پرست جماعت جئے سندھ متحدہ محاذ کی اپیل پر ہڑتال کی گئی۔

تنظیم نے تحفظ پاکستان قانون، جئے سندھ قومی محاذ کے رہنما مقصود قریشی کے قتل اور مندروں پر حملوں کے خلاف اس ہڑتال کی اپیل کی تھی۔

ہڑتال سے قبل کراچی، حیدرآباد اور دادو سمیت مختلف شہروں میں گذشتہ شب کریکر کے دھماکے کیے گئے جب کہ بدھ کی دوپہر کو سانگھڑ کے علاقے سرہاڑی میں ریلوے ٹریک پر دھماکہ کیا گیا جس کے باعث ریلوے ٹریفک معطل ہوگئی۔

دوسری جانب کراچی اور حیدرآباد کی سندھی آبادی والے علاقوں لاڑکانہ، دادو، سہون، میرپورخاص، محرابپور، قاضی احمد، مورو، ٹنڈو محمد خان، نئوں کوٹ اور ماتلی سمیت اکثر چھوٹے بڑے شہروں میں کاروبار بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ معمول سے کم رہی۔

مظاہرین نے ٹنڈو محمد خان میں حیدرآباد بدین روڈ پر ٹائروں کو نذر آتش کرکے ٹریفک کو معطل کردیا جب کہ میھڑ میں دوپہر کو کریکر دھماکہ اور فائرنگ کی گئی۔

یاد رہے کہ قومی اسمبلی نے اپوزیشن کی سخت مخالفت کے باوجود تحفظ پاکستان بل منظور کیا تھا۔ عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ آج سندھو دیش اور آزاد بلوچستان کے نعرے لگ رہے ہیں جن سے اسی قانون کے ذریعے نمٹا جاسکتا ہے۔

جئے سندھ متحدہ محاذ کا موقف ہے کہ ریاستی ادارے اس قانون کی آڑ میں قوم پرست کارکنوں کو نشانہ بنائیں گے اس لیے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

جئے سندھ قومی محاذ کے رہنما مقصود قریشی اور سلمان ودھو کی لاشیں نوشہرو فیرز ضلع سے ایک کار سے ملیں تھی، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ ثابت ہوا تھا کہ دونوں کو گولیاں مارکر ہلاک کرنے کے بعد لاشیں جلائی گئیں۔

محرابپور تھانے پر جئے سندھ قومی محاذ نے مقصود قریشی اور سلمان کے قتل کا مقدمہ ریاستی اداروں پر دائر کرنے کی درخواست کی لیکن پولیس نے اس کو مسترد کر دیا۔

واضح رہے کہ صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن اس سے پہلے یہ اعلان کرچکے تھے کہ قتل کا مقدمہ لواحقین کی خواہش پر دائر ہوگا اور وہ جس طرح چاہیں گے تحقیقات ہوں گی۔

اسی بارے میں