پاکستان نے دو ارب ڈالر کے بانڈز جاری کر دیے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں 50 کروڑ ڈالر مالیت کے بین الاقوامی بانڈ جاری کرنے کا اعلان کیا تھا

پاکستان نے بین الااقوامی بانڈ مارکیٹ میں پانچ اور دس سال کی مدت کے لیے دو ارب ڈالر مالیت کے بانڈز کا اجرا کیا ہے۔

پاکستان نے سات سال کے وقفے کے بعد بین الااقومی مارکیٹ میں بانڈ کا اجرا کیا ہے۔

پانچ سال کی مدت کے لیے جاری ہونے والے بانڈ پر شرح سود سات اعشاریہ دو پانچ فیصد اور دس سال کی مدت کی شرح سود آٹھ اعشاریہ دو پانچ فیصد ہے۔

خیال رہے کہ حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں 50 کروڑ ڈالر مالیت کے بین الاقوامی بانڈ جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس سے قبل پاکستان تین مرتبہ بین الااقوامی مارکیٹ میں بانڈز فروخت کر چکا ہے۔ سنہ 2016 میں پاکستان کے 50 کروڑ ڈالر مالیت کے جاری کردہ بانڈ کی مدت مکمل ہو رہی ہے۔ ان بانڈز پر شرح سود پانچ اعشاریہ چھ فیصد تھی۔

سنہ 2017 میں 75 کروڑ ڈالر کے بانڈ کی مدت ختم ہو گی جب کہ سنہ 2036 میں پاکستان کو 30 کروڑ ڈالر کے بانڈز کی ادائیگی کرنا ہیں۔ ان دونوں بانڈز کی شرح سود بالترتیت چھ اعشاریہ ایک فیصد اور نو اعشاریہ دو فیصد ہے۔

ماہر اقتصادیات خرم شہزاد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بین الاقوامی مارکیٹ سے طویل مدت کے لیے قرض لینے سے ملک میں روپے پر دباؤ اور مہنگائی کی شرح کم ہو گی۔

انھوں نے کہا ’غیر ملکی بانڈز سے حاصل ہونے والی رقم سے پاکستانی روپیہ مستحکم ہو گا اور حکومت کے پاس بڑے منصوبے جیسے ڈیم اور آبی ذخائر یا بجلی گھر بنانے کے لیے اضافی رقم موجود ہو گی۔‘

پاکستان کی طرف سے جس شرح سود پر بانڈز کا اجرا کیا گیا ہے اس پر کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شرح انتہائی زیادہ ہے اور اس میں معیشت کی ترقی ممکن نہیں ہے۔

پاکستان کے سابق سیکیریٹری خارجہ طاہر پرویز کا کہنا ہے کہ اس قرضے سے افراط زر بڑھے گا اور ان کا بوجھ عوام پر پڑے گا۔

بانڈز کی فروخت کے لیے کیے جانے والے روڈ شوز میں وزارتِ خزانہ کی دو ٹیمیں مختلف ممالک روانہ کی گئی تھیں۔

وزیرِخزانہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک ٹیم دوبئی لندن اور نیویارک گئی جب کہ سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسود کی سربراہی میں ایک ٹیم ہانگ کانگ ، سنگاپور، بوسٹن اور لاس اینجلس روانہ ہوئی تھی۔

وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق بین الااقوامی سرمایہ کاروں نے پاکستانی بانڈز کی خریداری میں زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور دو مرحلوں میں جاری ہونے والے بانڈز کے لیے 400 سے زائد آڈرز ملے۔

پاکستانی بانڈز میں سب سے زیادہ دلچسپی امریکہ کے سرمایہ کاروں نے لی اور پانچ سال کی مدت کے لیے امریکی سرمایہ کاروں نے 59 بانڈ اور دس سالہ مدت کے لیے جاری ہونے والے 61 فیصد بانڈ خریدے۔

اسی بارے میں