’امن کی توقع کم ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption طالبان سے امن مذاکرات تذبذب کا شکار پاکستانی قوم کو مزید انتہاپسندی کی دلدل میں دھکیل سکتے ہیں: ڈاکٹر مہدی

بدھ کی صبح پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی سبزی منڈی میں دھماکے سے 21 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

ملک میں امن مذاکرات کے ساتھ ساتھ حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ سبزی منڈی پر حملے کے بعد بیشتر ماہرین متفق ہیں کہ طالبان سے جاری امن مذاکرات سے ملک میں امن قائم ہونے کی توقع کم ہی ہے۔

معروف تجزیہ کار ڈاکٹر مہدی حسن نے بی بی سی سے بات کرتے کہا: ’امن مذاکرات کی کامیابی کی امید پہلے ہی بہت کم تھی کیونکہ کالعدم تحریک طالبان تو صرف ایک گروہ ہے جس کے ساتھ حکومت بات چیت کر رہی ہے، مگر ریاست کے خلاف بغاوت کرنے والے بہت سے دوسرے گروہ بھی ہیں جس کی وجہ سے مذاکرات پر پہلے ہی سوالہ نشان لگا ہوا ہے۔‘

ڈاکٹر مہدی نے کہا: ’حکومت نے طالبان کے مطالبات پورے کر کے پہلے ہی اپنی کمزوری ظاہر کر دی ہے اس لیے مجھے تو مذاکرات کی کامیابی کے امکانات بہت کم لگتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی لاتعلقی کے دعوے کے علاوہ حکومت کے پاس کیا ثبوت ہے کہ حملہ انھوں نے نہیں کیا؟ انھوں نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ حملوں کی مکمل تحقیقات کے بعد مجرموں کو قوم کے سامنے لائے۔

ڈاکٹر مہدی حسن کے بقول: ’جو سیاسی جماعتیں مذاکرات کی حامی ہیں دراصل ان کی سوچ اور مقاصد طالبان سے مختلف نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عام شہری کی ہلاکتوں کے باوجود وہ مذاکرات پر بضد ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ طالبان نے اپنی ویب سائٹ پر قائد اعظم کی تصویر لگائی ہے جس میں انھوں نے سوٹ پہن رکھا ہے مگر طالبان نے اس کے نیچے لکھا ہے کہ یہ حلیہ غیر اسلامی ہے۔ ’تو جو نظام طالبان چاہتے ہیں وہ کسی کو قبول نہیں ہوگا، سوائے ان لوگوں کے جو مذاکرات چاہتے ہیں۔‘

معروف تجزیہ کار کے مطابق: ’جو لوگ کہتے ہیں کہ جنگ کا حل مذاکرات ہی سے نکلتا ہے انھیں جنگ اور بغاوت کا مطلب سمجھنا چاہیے۔ طالبان ریاست کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں اور باغی جب تک ہتھیار نہ ڈالے، اس سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔‘

لیکن طالبان سے مذاکرات کی حامی صرف مذہبی جماعتیں ہی نہیں، بلکہ اس کی توثیق تمام پارلیمان نے کی ہے۔

ڈاکٹر مہدی حسن کہتے ہیں: ’ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی مذاکرات کی مخالفت کر رہی ہیں مگر مسلم لیگ ن کی پارلیمان میں اکثریت ہونے کی وجہ سے ان کی آواز دب جاتی ہے، کیونکہ مسلم لیگ طالبان کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے۔‘

مسلم لیگ ن کے طالبان کے لیے نرم گوشہ رکھنے کی وجہ کیا ہے؟

اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا: ’طالبان اور مسلم لیگ ن ایک ہی شخص یعنی جنرل ضیالحق کی پیداوار ہیں۔ مسلم لیگ ن کو جنرل ضیا الحق نے بنایا اور طالبان بھی ضیالحق کے لڑاکا تھے۔ لہٰذا یہ ایک ہی سوچ کے مالک ہیں اس لیے مسلم لیگ ن کی طالبان سے نرمی قابلِ فہم ہے۔‘

ڈاکٹر مہدی حسن کو خدشہ ہے کہ طالبان سے امن مذاکرات تذبذب کا شکار پاکستانی قوم کو مزید انتہاپسندی کی دلدل میں دھکیل سکتے ہیں۔